آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 664
۔اے بھائی مفت میں تجھے نصرت کا یہ بدلہ دے رہے ہیں ورنہ یہ تو آسمانی فیصلہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا۔میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ قادر وقدوس خدا کا منشا یہ ہے کہ اسلام کی وہ قوت اور وہ شوکت پھر پیدا ہو جائے۔اے خداوند کریم سینکڑوں مہربانیاں اُس شخص پر کر جو دین کا مددگار ہے اگر کبھی آفت آئے تو اس کی مصیبت کو ٹال دے۔اے خداوند قادر مطلق اسے ایسا خوش رکھ کہ اس کی حالت اور سب کاروبار میں ایک جنت پیدا ہو جائے۔افسوس قوم میری چیخ وپکار کو نہیں سنتی میں تو ہر طریقہ سے اسے نصیحت کرتا ہوں کاش اس کو عبرت ہو۔مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ لوگ کبھی اپنی آنکھیں کھولیں گے مگر صرف اس وقت جب تقویٰ، پاکدامنی اور خشیت اللہ ان میں پیدا ہو جائے۔یہ تو مجھے دجّال، جھوٹا اور کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ خدا کے نور سے انہیں کیوں نفرت ہو گئی۔اے دین سے غافل اور ناواقف انسانو۔کیا تمہیں تعجب آتا ہے کہ اس اندھیرے میں خدا کی طرف سے ایک چشمہئِ حیات پیدا ہو گیا ہے۔آدمی یہ بات سوچ کر کیوں حیران ہو کہ نیند کے متوالوں کے لئے ایک غفلت کا دور کرنے والا پیدا ہو گیا۔اے میری قوم۔تو رسول اللہؐ کی حدیثوں کو بھی بھول گئی کہ ہر صدی کے سر پر امت کے لئے ایک مصلح پیدا ہوا کرتا ہے صفحہ ۱۔تیری محبت ہزار بیماریوں کی دوا ہے تیرے منہ کی قسم کہ اس گرفتاری ہی میں اصل آزادی ہے۔تیری پناہ ڈھونڈنا دیوانوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ تیری پناہ میں آنا ہی تو کمال درجہ کی عقل مندی ہے۔میں تیری محبت کی دولت کو ہرگز نہیں چھپاؤں گا۔کہ تیرے عشق کا مخفی رکھنا بھی ایک غدّاری ہے۔میں تیار ہوں کہ جان ودل تجھ پر قربان کر دوں کیونکہ جان کو محبوب کے سپرد کر دینا ہی اصل دوستی ہے صفحہ ۱۱۔شرم، شہرت اور عزت ہم نے سب اپنی جھولی سے پھینک دئیے۔ہم مٹی میں مل گئے تا (اس طرح) شاید محبوب مل جائے