آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 293

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۹۳ آئینہ کمالات اسلام کافر ہوں اور دوسرے یہ کہ میرا شیوہ جھوٹ بولنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ۲۹۳ ہیں کہ اپنی رویا میں صادق تر وہی ہوتا ہے جو اپنی باتوں میں صادق تر ہوتا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق کی یہ نشانی ٹھہرائی ہے کہ اس کی خوابوں پر سچ کا غلبہ ہوتا ہے اور ابھی آپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں ۔ پس اگر آپ نے یہ بات نفاق سے نہیں کہی اور آپ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول میں بچے ہیں تو آؤ ہم اور تم اس طریق سے ایک دوسرے کو آزما لیں کہ بموجب اس ملک کے کون صادق ثابت ہوتا ہے اور کس کی سرشت میں جھوٹ ہے۔ اور ایسا ہی اللہ جل شانه قرآن کریم میں فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ہے یعنی یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے ان کی خوا ہیں سچی نکلتی ہیں۔ اور آپ ابھی دعوئی کر چکے ہیں کہ میں قرآن پر بھی ایمان لاتا ہوں ۔ بہت خوب آؤ قرآن کریم کے رو سے بھی آزما لیں کہ مومن ہونے کی نشانی کس میں ہے۔ یہ دونوں آزمائشیں یوں ہو سکتی ہیں کہ بٹالہ یا لاہور یا امرتسر میں ایک مجلس مقرر کر کے فریقین کے شواہد رؤیا ان میں حاضر ہو جائیں اور پھر جو شخص ہم دونوں میں سے یقینی اور قطعی ثبوتوں کے ذریعہ سے اپنی خوابوں میں اصدق ثابت ہو اس کے مخالف کا نام کذاب اور دجال اور کافر اور اسفر اور ملعون یا جو نام تجویز ہوں اسی وقت اس کو یہ تمغہ پہنایا جائے اور اگر آپ گزشتہ کے ثبوت سے عاجز ہوں تو میں قبول کرتا ہوں بلکہ چھ ماہ تک آپ کو رخصت دیتا ہوں کہ آپ چند اخباروں میں اپنی ایسی خوابیں درج کرا دیں جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوں اور میں : پر مشتمل ہوں اور میں نہ صرف اسی پر کفایت کروں گا کہ گذشتہ کا آپ کو ثبوت دوں بلکہ آپ کے مقابل پر بھی انشاء اللہ القدیر اپنی خوابیں درج کراؤں گا ۔ اور یونس : ۶۵ -