آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 293
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۹۳ آئینہ کمالات اسلام کافر ہوں اور دوسرے یہ کہ میرا شیوہ جھوٹ بولنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ۲۳ ہیں کہ اپنی رویا میں صادق تر وہی ہوتا ہے جو اپنی باتوں میں صادق تر ہوتا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق کی یہ نشانی ٹھہرائی ہے کہ اس کی خوابوں پر بیچ کا غلبہ ہوتا ہے اور ابھی آپ دعوی کر چکے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں ۔ پس اگر آپ نے یہ بات نفاق سے نہیں کہی اور آپ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول میں بچے ہیں تو آؤ ہم اور تم اس طریق سے ایک دوسرے کو آزما لیں کہ ہمو جب اس محک کے کون صادق ثابت ہوتا ہے اور کس کی سرشت میں جھوٹ ہے ۔ اور ایسا ہی اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ے یعنی یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ یہ نسبت دوسروں کے ان کی خوا ہیں بچی نکلتی ہیں ۔ اور آپ ابھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ میں قرآن پر بھی ایمان لاتا ہوں ۔ بہت خوب آؤ قرآن کریم کے رو سے بھی آزمالیں کہ مومن ہونے کی نشانی کس میں ہے۔ یہ دونوں آزمائشیں یوں ہوسکتی ہیں کہ بٹالہ یا لا ہور یا امرتسر میں ایک مجلس مقرر کر کے فریقین کے شواہد رویا ان میں حاضر ہو جائیں اور پھر جو شخص ہم دونوں میں سے یقینی اور قطعی ثبوتوں کے ذریعہ سے اپنی خوابوں میں اضدق ثابت ہو اس کے مخالف کا نام کذاب اور دجال اور کافر اور اکفر اور ملعون یا جو نام تجویز ہوں اسی وقت اس کو یہ تمغہ پہنایا جائے اور اگر آپ گزشتہ کے ثبوت سے عاجز ہوں تو میں قبول کرتا ہوں بلکہ چھ ماہ تک آپ کو رخصت دیتا ہوں کہ آپ چند اخباروں میں اپنی ایسی خواہیں درج کرا دیں جو امور غیبیہ پرمشتمل ہوں اور میں نہ صرف اسی پر کفایت کروں گا کہ گذشتہ کا آپ کو ثبوت دوں بلکہ آپ کے مقابل پر بھی انشاء اللہ القدیر اپنی خوا میں درج کراؤں گا ۔ اور ا یونس : ۶۵