آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 294

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۹۴ آئینہ کمالات اسلام (۲۹) جیسا کہ آپ کا دعوی ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں یہی میرا دعوی ہے کہ میں بدل و جان اس پیارے نبی پر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس پیاری کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں۔ اب اس نشانی سے آزمایا جائے گا کہ اپنے دعوئی میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے اگر میں اس علامت کے رو سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قرار دی ہے مغلوب رہا تو پھر آپ سچے رہیں گے اور میں بقول آپ کے کافر، دجال، بے ایمان، شیطان ، اور کذاب اور مفتری ٹھہروں گا اور اس صورت میں آپ کے وہ تمام ظنون فاسده درست اور برحق ہوں گے کہ گویا میں نے براہین احمدیہ میں فریب کیا اور لوگوں کا روپیہ کھایا اور دعا کی قبولیت کے وعدہ پر لوگوں کا مال خورد و برد کیا اور حرام خوری میں زندگی بسر کی لیکن اگر خدائے تعالیٰ کی اس عنایت نے جو مومنوں اور صادقوں اور راست بازوں کے شامل حال ہوتی ہے مجھ کو سچا کر دیا تو پھر آپ فرما دیں کہ یہ سب نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزا وار ٹھہریں گے یا اس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کے لئے باقی رہے گا۔ آپ نے مجھے کو بہت دکھ دیا اور ستایا۔ میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرہ اس ذات قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہ سے واقف ہے۔ اس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ انی مهین من اراد اهانتک یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔ سويقيناً سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغ گو ہونا ثابت کر دے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں ان تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا۔ آپ کا دعوی ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں پس اگر آپ اس قول میں بچے ہیں تو آزمائش کے لئے میدان