آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 292

روحانی خزائن جلد ۵ (۲۹۲) کہ آپ کو جھوٹا جانوں۔ ۲۹۲ آئینہ کمالات اسلام اقول شیخ صاحب اگر آپ قرآن کو سچا جانتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی صادق مانتے تو مجھ کو کافر نہ ٹھہراتے ۔ کیا قرآن کریم اور حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ماننے کے یہی معنی ہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہے اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے اور كلمه طيبه لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا قاتل ہے اور اسلام میں نجات محدود سمجھتا اور بدل و جان اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں فدا ہے اس کو آپ کا فر بلکہ اکفر ٹھہراتے ہیں اور دائمی جہنم اس کیلئے تجویز کرتے ہیں۔ اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس کو دجال کہتے ہیں اور اس کو قتل کرنا اور اس کے مال کو بطور سرقہ لینا سب جائز قرار دیتے ہیں۔ رہے وہ کلمات اس عاجز کے جن کو آپ کلمات کفر ٹھہراتے ہیں ان کا جواب اس رسالہ میں موجود ہے۔ ہر یک منصف خود پڑھ لے گا۔ اور آپ کی علمیت اور آپ کی دیانت اور آپ کا فہم قرآن اور فہم حدیث اس سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہے علیحدہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ قوله - عقائد باطلہ مخالفہ دین اسلام و ادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے۔ اقول شیخ صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو ۔ اوّل تو وہ جرات کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیق کامل کسی فسق اور کفر کا الزام نہیں لگاتا اور اگر لگاوے تو پھر ایسا کامل ثبوت پیش کرتا ہے کہ گویا دیکھنے والوں کیلئے دن چڑھا دیتا ہے۔ پس اگر آپ ان دونوں صفتوں مذکورہ بالا سے متصف ہیں تو آپ کو اس خداوند قادر ذوالجلال کی قسم ہے جس کی قسم دینے پر حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی توجہ کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ آپ حسب خیال اپنے یہ دونوں قسم کا خبث اس عاجز میں ثابت کر کے دکھلاویں یعنی اول یہ کہ میں مخالف دین اسلام اور