احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 500
۔اے عزیز! میری جان تیرے ایمان کے غم میں گھل گئی مگر عجیب بات یہ ہے کہ تیرے خیال میں مَیں کافر ہوں۔اے رب میرے آنکھ کے پانی سے ان کی یہ سستی دھو ڈال کہ اس غم کے مارے آج میرا بستر تک تر ہو گیا۔میری جان مصطفی کے دین کی راہ میں فدا ہو۔یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش میسر آجائے صفحہ ۲۸۳۔بُروں کے ساتھ بھلائی کرنا اس طرح ہی ہے جیسے نیک لوگوں کے ساتھ برائی کرنا صفحہ ۳۲۲۔خبردار ! اے وہ جو سمجھ دار اور نیک فطرت ہے دنیا کے لالچ کے پیچھے دین کو بربادنہ کر۔اِس فانی دنیا سے اپنا دل نہ لگا۔کہ اس کے آرام میں سینکڑوں دکھ پوشیدہ ہیں۔اگر تیرے ہوش کے کان کھلے ہوں۔تو تجھے اپنی قبر سے یہ آواز سنائی دے۔کہ چند روز کے بعد اے میرے لقمے تو اِس ذلیل دنیا کے غم میں نہ جلا کر۔ہر وہ شخص جو دنیا کے پیچھے پڑا ہے وہ رنج، عذاب اور تکلیف میں گرفتار ہے۔جو موت کی طرف نظر رکھتا ہے وہی آزاد ہے، دنیا سے کٹ کر اس کی دونوں آنکھیں انتظار میں لگی ہیں۔مرنے سے پہلے وہ یار کی طرف سفر کر گیا اور دنیا سے اپنا سب سامان اور اسباب نکال کر الگ کر لیا۔آخرت کے لئے اپنی کمر کس کر باندھ لی اور اس نکمے گھر کا سامان چھوڑ دیا۔چونکہ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں اس لئے یہی مناسب ہے کہ تو اِس مکان سے دل کو چھڑا لے۔وہ جہنم جس کی خبر قرآن نے دی ہے اے عزیز! وہ یہی دنیا کی حرص ہے۔جب آخر کار دنیا سے سفر کرنا پڑے گا اور ایک دن اس راہ سے گزر جانا ہو گا۔تو پھر عقلمند اس سے دل کیوں لگائے۔جب یک دم اس کے پھولوں پر خزاں کی ہوا چلے گی۔اپنا دل اس آوارہ عورت) دنیا(سے لگانا غلطی ہے کیونکہ یہ دین اور صدق وصفا کی دشمن ہے۔اس دو رنگی معشوق سے کیا حاصل ہو گاجو کبھی تجھے صلح کر کے قتل کرتا ہے کبھی لڑائی کر کے۔تو اس محبوب سے اپنا دل کیوں نہیں لگاتا کہ جس کی محبت قید شدید سے آزاد کر دیتی ہے۔اے گمراہ شخص ! جااور اپنی عاقبت کی فکر کر اگر تو میری بات نہیں سنتا تو سعدی کی بات ہی سن لے