رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 94 of 169

رسالہ درود شریف — Page 94

رساله درود شریف IMA وَسَلَّمَ عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلّى إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدٍ اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُه وَصَلّ عَلَى ثُمَّ ادْعُهُ - قَالَ ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ أخَر بَعْدَ ذلِكَ فَحَمِدَ اللهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا المُصَلَّى ادْعُ تُجَبْ - هَذَا حَدِيثُ حَسَنُ (جامع ترندی جلد ۲ صفحه ۱۸۶) حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) آنحضرت ام مسجد میں مجلس فرما رہے تھے۔اسی دوران میں ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا۔اور جب اس نے دعا کرنی شروع کی تو حمد و ثناء اور درود کے بغیر ہی یوں دعا کرنے لگا کہ اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھے پر رحم فرملا جب وہ دعا کر چکا تو آنحضرت میں نے اسے فرمایا کہ اے نمازی تم نے (دعا میں) جلد بازی کی ہے، جب تم نماز کے آخر میں تشہد کے لئے بیٹھو تو پہلے اللہ تعالی کی ایسے طور پر حمد و ثناء بیان کرو جو اس کی شان کے لائق ہو۔اور مجھ پر درود بھیجو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور جو دعا کرنی ہو کرو۔اس حدیث کے راوی حضرت فضالہ بن عبید بیان کرتے ہیں کہ جب حضور اس شخص کو یہ ہدایت دے چکے۔تو اس کے بعد ایک اور شخص آکر نماز پڑھنے لگا اور اس نے اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔اور اس کے بعد آنحضرت میں پر درود بھیجا۔اس پر آنحضرت امی نے اسے فرمایا۔اے نمازی ! اب دعا کرو۔تمہاری دعا قبول ہو گی۔غرض دعا سے قبل اللہ تعالٰی کی حمد کرنا اور آنحضرت میم پر درود بھیجنا دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہے کیونکہ حمد وصلوٰۃ در حقیقت شکر نعمت ہے اور شکر نعمت بموجب آیت لاِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ زیادت نعمت کا ذریعہ ہے الله 149 رساله درود شریف اور قبولیت دعا نعم الہیہ میں سے ایک عظیم الشان نعمت ہے۔پس حمد وصلوٰۃ قبولیت دعا کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔نیز اس طرح سے وہ دعا درود شریف کا ایک ضمیمہ بن کر شرف قبولیت پانے کے قابل ہو جاتی ہے کیونکہ درود قبول کی جانیوالی دعا ہے۔نوٹ:۔یہاں پر اس بارہ میں بعض اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کا ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔() عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الدُّعَاءِ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُصْعَدُ مِنْهُ شَيْيٌّ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِتِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (جامع تندی) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تک دعا میں آنحضرت مال پر درود نہ بھیجا جائے اس وقت تک وہ آسمان پر نہیں پہنچتی (بلکہ نیچے ہی رہتی ہے) اس کا ایک مطلب تو یہی ہے کہ دعا سے پہلے آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنا دعا کی قبولیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ اس میں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ دعا کا حقیقی مدعا (جو اپنی عاجزی اور کمزوری کے اعتراف کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور گر جانا اور اس سے مدد چاہتا ہے۔اور جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ انسان کو اس قدر رفعت بخشتا ہے کہ اسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے اسی صورت میں حاصل ہو گا کہ انسان کا اصل مقصد آنخ کی عظمت اور رفعت اور آپ کے مقاصد میں آپ کی کامیابی چاہنا ہو۔اور دعا کرنے والا آنحضرت میں تعلیم کے مقاصد کو اپنے مقاصد پر مقدم رکھ کر اور اپنے مقاصد کو آپ کے مقاصد کے تابع کرکے دعا کرے۔اور