رسالہ درود شریف — Page 95
رساله و رود شریف ۱۷۰ اس کے ہم معنے ایک روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔اور وہ یہ ہے:۔(۳) عَنْ عَلِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْ دُعَاءِ إِلَّا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ حِجَابٌ حَتَّى يُصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الخَرَق الحِجَاب وَاسْتَجِيبَ الدُّعَاءِ (جلاء الافهام) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہر ایک دعا کے آسمان پر پہنچنے میں ایک حجاب حائل ہوتا ہے جو آنحضرت مسلم پر درود بھیجنے سے جو دور ہوتا ہے اور وہ دعا قبول ہوتی ہے۔ہی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے طریق دعا کے متعلق روایت ہے:۔(۳) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَسْأَلَ الله حَاجَةٌ فَابْدَأَ بِالْمَدْحَةِ وَالتَّحْمِيدِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ عَزَّوَجَلَّ بِمَا هُوَ اهْلُهُ ثُمَّ صَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ادْعُ بَعْدُ فَإِنَّ ذلِكَ أَخْرُى أَنْ تُصِيبَ حَاجَتَكَ (جلاء الافہام صفحه ۳۵۸) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (موقوفا) روایت ہے کہ تمہیں کوئی حاجت اور مشکل پیش آئے۔اور اس کے لئے دعا کرنے لگو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو۔پھر آنحضرت مال پر درود بھیجو۔اور اس کے بعد اپنی ضرورت کے لئے دعا کرو۔ایسے طور پر دعا کرنا حاجات کے پورا ہونے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔نام 121 رساله درود شریف ان احادیث اور روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے شروع میں بھی درود پڑھنا چاہئے اور اس کے آخر میں بھی۔درود شریف قضائے حاجات کا ذریعہ ہے نماز قضائے حاجات اور درود شریف (۲) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى اللهِ حَاجَةً أَوْ بَنِي آدَمَ فَلْيَتَوَضَّأَ فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ لَيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لَيُمْنِ عَلَى اللهِ وَلْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ليَقُلْ ترجمہ : حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں نے فرمایا ہے جس شخص کو کوئی حاجت در پیش ہو جس کے پورا ہونے کے ظاہری اسباب نہ ہوں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہی پوری ہو سکتی ہو۔یا اس میں کسی انسان کا بھی دخل ہو۔تو اسے چاہئے کہ خوب اچھی طرح سے وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھے۔اور ان میں سلام سے قبل) اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے۔اور خدا کے نبی میل پر درود بھیجے۔اور اس کے بعد یوں دعا کرے۔لا إله إلا الله الحمُ الكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - أَسْأَلُكَ مُوَجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَة مِنْ كُلِّ بِرِّ وَ السَّلَامَةَ