رسالہ درود شریف — Page 93
رساله درود شریف 144 تعالیٰ کے حضور دعائیں کی جائیں۔جس کی طرف آیت وَمِنَ اللَّيْلِ۔فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةٌ لَّكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا نَحْمُودًا اسرائیل (۸۰) بھی رہنمائی کرتی ہے اور ان دعاؤں میں سے بهترین اور جامع دعا اس حدیث میں درود شریف کو بتایا گیا ہے پس معلوم ہوا که درود شریف دنیا و آخرت کے محمود ہونے کا اور انجام کے بہتر ہونے کا بهترین ذریعہ ہے۔اور اس بات کی تصدیق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے:۔” خدا تعالیٰ دنیا و آخرت محمود کرے۔بعد نماز عشاء درود شریف بہت پڑھیں" (مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۳ صفحه ۳) اس حدیث کی بنا پر ایک دفعہ حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عہد کیا تھا کہ میں باقی سب دعاؤں کی بجائے آنحضرت مال پر درود بھیجا کرونگا۔جس پر حضور نے ہاتھ اٹھا کر حضرت مفتی صاحب کے لئے دعا کی۔اور اس طرح سے اس حدیث کی تصدیق فرمائی اور اس بات کو بہت پسند فرمایا۔حضرت مفتی صاحب کا اب تک اسی پر عمل ہے۔درود شریف قبولیت دعا کا ذریعہ ہے (۳) عَنِ بنِ حُبَيشِ عَنْ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنتُ أصَلِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَ عُمَرُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأَتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ الصَّلوةِ عَلَى النّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي فَقَالَ 144 رساله درود شریف النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ تُعْطَنَّ سَلْ تُعْطَهُ (جامع ترندی جلد ا صفحه (۷۶) ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں مسجد میں نماز نفل پڑھ رہا تھا اور آنحضرت میں وہیں تشریف رکھتے تھے۔اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ بھی حضور کی خدمت میں حاضر تھے۔جب میں آخری تشہد کے لئے بیٹھا تو میں نے اپنے لئے دعا شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آنحضرت می پر درود بھیجا۔اور اس کے بعد اپنے لئے دعا کرنے لگا۔اس پر آنحضرت م نے فرمایا۔اب خدا تعالیٰ سے جو مانگنا ہو مانگو تمہیں دیا جائے گا۔مانگو تمہیں دیا جائے گا۔اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حمد و ثناء الہی اور آنحضرت می پر درود بھیجنا قبولیت دعا کا ذریعہ ہے۔اور بعض احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ تشہد کے اذکار کے بعد یعنی التَّحِيَاتُ لِلَّهِ سے لے کر عَبْدُهُ وَ رَسُولُه تک پڑھنے کے بعد جو دعا چاہیں کر سکتے ہیں۔اور اس کا مطلب بھی دراصل یہی ہے۔کیونکہ تشہد کی دعا میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور تعظیم بھی موجود ہے۔اور آنحضرت میں اللہ کے حق میں سلام، رحمت اور برکات کی دعا یعنی درود بھی۔اور اس کے قریب المعنے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل حدیث ہے:۔عَنْ فُضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ