رسالہ درود شریف — Page 144
ر ساله درود شریف ۲۶۹ رساله درود شریف درود شریف کے متعلق حضرت خلیفۃ اصحیح ثانی ایدہ اللہ امام کی انتظار میں جو وقت مسجد میں گذرتا ہے۔اس کو رائیگاں نہیں گزارنا تعالیٰ کے ارشادات ذکر الہی اور درود شریف کی تاکید اور درود کی حقیقت) ذکر الہی کی تاکید جماعت کو چاہئے کہ ذکر الہی میں بھی اپنے اوقات خرچ کرے۔تا اس کا قلب خدا کی صفات کا جلوہ گاہ بن جائے۔اور اس کے انوار کا اس پر نزول شروع ہو جائے۔جب انسان ذکر الہی سے اپنے دل کی کیفیت کو بدل ڈالے تو اس کا وہ مقصد پورا ہو جاتا ہے۔جس کے لئے اسے دنیا میں بھیجا گیا۔پس میں پھر جماعت سے کہتا ہوں کہ وہ نماز کے علاوہ ذکر الہی بھی کرے۔ذکر الہی کا بہترین موقع اگرچہ ذکر الہی کے لئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔جس وقت بھی انسان چاہے ذکر الہی کر سکتا۔لیکن اس کے لئے بہترین وقت مسجد میں اگر امام کی انتظار کرنے کا وقت ہے۔کیونکہ ایک تو اس سے مسجد میں آکر ادھر ادھر کی باتوں سے انسان بچا رہتا ہے۔دوسرے یہ وقت فرصت کا ہوتا ہے۔خواہ کوئی زمیندار ہو یا تاجر۔ملازم ہو یا پیشہ ور وہ سمجھتا ہے کہ یہ فارغ وقت ہے۔اور جب تک نماز نہیں ہو لیتی ، میں مسجد سے نہیں جا سکتا۔پس وہ اس خالی وقت میں اچھی طرح ذکر الہی کر سکتا ہے۔اور اگر اس کو ضائع نہ کرنے اور اس میں ذکر الہی کرنے کی عادت ڈالے تو قلب میں بہت بڑی اصلاح ہو جاتی ہے۔اور پھر انوار الہی کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔پس چاہئے بلکہ اس میں ذکر الہی کرنا چاہیے۔کیونکہ ذکر الہی ایک ایسی چیز ہے جس سے مومن کا آئینہ دل صاف ہو جاتا ہے جس میں وہ خدا کی شکل کو دیکھتا ہے اور انوار الہی کا صبط بن جاتا ہے۔تسبیح و تحمید پھر ذکروں میں سے بعض ذکر ایسے ہیں جو زیادہ مفید ہیں اور جلد ہی ایک شخص کے دل کو پاک اور انوار الہی کا صبط اور نزول گاہ بنا دیتے ہیں۔ان ذکروں میں سے خصوصیت کے ساتھ تسبیح و تحمید ہے۔اس سے انسان جلدی ترقی کرنی شروع کر دیتا ہے۔منعم علیہ گروہ کے نمونہ پر چلنے کی ہدایت دنیا میں ہر ایک شخص جو بات حاصل کرتا ہے، عام طور پر سامنے نمونہ رکھ کر حاصل کرتا ہے۔پھر اس کے ساتھ ایک اور فرض بھی ہے۔جو انسان کے ذمہ ہے۔اور وہ اس غرض کو حاصل کرنا ہے جس کے لئے وہ دنیا میں بھیجا گیا ہے۔مگر یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی جب تک انسان ویسے عمل نہ کرے جو اس غرض کو حاصل کرانے والے ہیں۔اور چونکہ انسان اکثر نمونہ دیکھ کر کچھ حاصل کرتا ہے اس لئے اس غرض کو حاصل کرنے کے لئے بھی وہ بعض ایسے لوگوں کے اعمال سامنے رکھ لیتا ہے جنہوں نے اس غرض کو حاصل کر لیا ہو۔پھر جب وہ ان پر عمل پیرا ہو تو اس غرض کو حاصل کر لیتا ہے جس کے لئے وہ دنیا میں بھیجا گیا ہے۔پس ہماری جماعت کو بھی اس غرض کے حصول