رسالہ درود شریف — Page 145
رساله درود شریف ۲۷۰ کے لئے منعم علیہ لوگوں کے اعمال کا نمونہ اپنانا چاہئے۔تاکہ ان کا دل بھی ایسا ہو جائے کہ خدا کی صفات اس پر جلوہ گر ہوں۔اور اپنی پیدائش کی غرض کو پالیں۔تسبیح و تحمید انسان کے دل کو ایسا بنا دیتی ہے۔اور وہ غرض جو کہ انسان کے دنیا میں آنے کی ہے، اس کے ذریعہ سے پوری ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب ایک شخص خدا کی تسبیح و تحمید کرتا ہے تو دونوں باتیں اس کے سامنے آجاتی ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ خدا پاک ہے تو ہمیں بھی پاک بننے کا خیال آتا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر ہم اس کو پا نہیں سکتے۔اور چونکہ وہ پاک ہے اور اس کے پانے کے لئے پاک ہونا چاہئے۔اس لئے ہم اگر اس کو پانا چاہیں تو ہمیں پاک ہونا چاہئے۔اس لئے جب ہم خدا کو پاک کہتے ہیں تو ہمیں بھی پاک ہونے کا خیال ہوتا ہے۔اسی طرح جب ہم تحمید کریں گے تو بہترین نمونه صفات الہیہ کا ہمارے سامنے آجائے گا۔اور خدا تعالیٰ کی صفات کے نمونہ کو دیکھ کر ہمیں خیال پیدا ہو گا کہ ہم میں بھی یہ صفات پیدا ہوں۔نیز پھر اس سے یہ خیال پیدا ہو گا کہ ہمیں اپنے عیوب دور کرنے چاہئیں۔اور بجائے ان کے اپنے اندر خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں۔ان دونوں صورتوں میں تسبیح و تحمید مفید ہو گی۔استغفار دوسرا خاص ذکر الہی استغفار ہے۔اس میں بظاہر ایک شخص اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے لیکن در حقیقت اس میں بھی خدا کی صفات مینی کا ذکر رہتا ہے۔کبھی نہیں دیکھو گے کہ ایک شخص وکیل سے جا کر کہے کہ مجھے فلاں مرض ہے اس کے لئے نسخہ لکھد بیجئے۔اسی طرح کبھی نہیں دیکھو گے کہ رساله درود شریف ایک شخص ڈاکٹر کے پاس جائے اور اپنا مقدمہ بیان کر کے اس سے کہے کہ اس کے متعلق مشورہ دیجئے۔کیوں؟ اس لئے کہ انسان کا خاصہ ہے کہ وہ اسی کے پاس جاتا ہے جس سے اسے امید ہو کہ میرا فلاں کام کر سکتا ہے۔ایک وکیل چونکہ نسخہ نہیں لکھ سکتا۔اس لئے وہ اس کے پاس اس غرض کے لئے نہیں جاتا۔بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ڈاکٹر نسخہ لکھ سکتا ہے پس جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا ہمیں معاف فرما۔تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ غفور ہے، رحیم ہے، علیم ہے، اور وہ معاف کرتا ہے۔پس استغفار بھی ذکر الہی ہے۔اور ایسا ذکر الہی ہے کہ اسے کثرت سے کرنا چاہئے۔کیونکہ انسان بغیر خدا کی مدد و نصرت کے کچھ کر نہیں سکتا۔اور نہ ہی بغیر اس کے اسے کچھ مل سکتا ہے۔پھر استغفار میں اپنی غلطیوں کی معافی بھی ہوتی ہے اور خدا کی مدد و نصرت بھی ملتی ہے۔پس استغفار میں یہ دونوں باتیں ہیں کہ انسان اپنی غلطیوں کا اقرار بھی کرتا ہے جس سے اسے معافی ملتی ہے اور مدد و نصرت حاصل ہوتی ہے۔اور صفات الہی کو بھی سامنے لاتا ہے درود شریف کے متعلق جماعت کو تاکید اس کے علاوہ درود ہے۔درود سے بھی انسان روحانی ترقی کرتا اور روحانی فوائد پاتا ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ خصوصیت کے ساتھ درود کی کثرت کو اپنے لئے لازم کریں۔اور مسجد میں آکر بالضرور آنحضرت م پر درود پڑھنا چاہئے۔