رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 143 of 169

رسالہ درود شریف — Page 143

ر ساله درود شریف درود شریف کی برکت سے زیارت نبوی ایک دفعہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب مرحوم سجادہ نشین چاچڑاں نے حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو زیارت نبوی کے لئے دردہ شریف کے کچھ خاص الفاظ بنائے تھے۔جن کے پڑھنے سے پہلی ہی رات حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو آنحضرت عمر کی زیارت ہوئی۔حضرت ممدوح اس واقعہ کا علی العموم ذکر فرمایا کرتے تھے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھی اس کا ذکر کیا۔چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک مکتوب بنام خواجہ صاحب ممدوح میں فرماتے ہیں (یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب سراج منیر کے ضمیمہ میں بھی درج ہے۔اور وہیں سے یہ حوالہ نقل کیا جاتا ہے)۔از مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین و صاجزادہ محمد سراج الحق جمالی السلام علیکم۔مولوی صاحب بذکر خیر آن مکرم اکثر رطب اللسان مے مانند۔عجب کہ اوشان در اندک صحبتے دلی محبت د اخلاص به آن مکرم چند بار این خارق امر ازاں مخدوم ذکر کرده اند که مرا یک درود شریف برائے خواندن ارشاد فرمودند که ازیں زیارت حضرت نبوی می خواهد شد۔چنانچہ ہماں شب مشرف به زیارت شدم۔والسلام الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان" ترجمہ۔مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب اور پیر سراج الحق صاحب ۲۶۷ رساله درود شریف کی طرف سے آپ کو السلام علیکم۔مولوی صاحب موصوف علی العموم آپ کا ذکر خیر کرتے رہتے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ تھوڑی سی ہم نشینی اور ملاقات کے نتیجہ میں ان کے دل میں آپ سے بہت ہی محبت اور اخلاص جاگزیں ہو گیا ہے۔انہوں نے متعدد مرتبہ آپ کی اس کرامت کا ذکر کیا ہے کہ آپ نے انہیں ایک درود شریف بتایا اور کہا کہ اس کے پڑھنے سے آنحضرت کی زیارت نصیب ہو گی۔چنانچہ پہلی ہی رات اس درود شریف کی برکت سے وہ آنحضرت میر کی زیارت سے مشرف ہو گئے۔لو و السلام خاکسار غلام احمد از قادیان (بدر جلد ۳/۱۴) نوٹ: ایک دفعہ ایک صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں یکھنے کا بہت خواہش مند ہوں۔آپ نے فرمایا: " آپ درود شریف بہت پڑھا کریں"۔(بدر جلد ۳ نمبر (۱۴) ا۔اس درود شریف کے الفاظ یہ تھے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ تَعَيَّنِكَ الْأَقْدَمِ وَالْمَظْهَرِ الْاتَم الإشمِكَ الْأَعْظَمِ بِعَدَدِ تَجَلَّيَاتِ ذَاتِكَ وَ تَعَيَّنَاتِ صفَاتِكَ وَعَلَى آلِهِ كَذلِكَ - (از مولانا اختراوچی) ترجمہ : اے اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جو تیری ذات کے سب سے پہلے جلوہ گاہ اور تیرے اسم اعظم کے سب سے کامل مظہر ہیں، اس قدر درود بھیج کہ جس قدر تیری ذات کی تجلیات اور تیری صفات کے مظاہر ہیں۔اور اسی طرح آپ کی آل پر بھی۔(خاکسار مرتب رسالہ)