رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 122 of 169

رسالہ درود شریف — Page 122

رساله درود شریف ۲۲۵ رساله درود شریف زیادہ تر حال سے یعنی حاصل شدہ نعمت کے سلامت رہنے سے ہے۔اور اس کے معنے قولی عبادت کے بھی کئے جاسکتے ہیں بخش) التبريك (برکت بخشا۔برکت کے لئے دعا کرنا) التسبيح (تسبیح کرنا۔پاک صفات کا اظہار اور اقرار کرنا۔اور عظمت شان کے خلاف امور پس التَّحِيَّاتُ لِلّه کے ایک معنے یہ ہیں۔کہ زندگی بخشنا۔بقا و دوام کی نفی کرنا) اللّزُومُ (دائم اور لازم ہو جانا اور جدا اور الگ نہ ہونا۔کام بخشا۔سلامتی دینا۔بادشاہت عطا کرنا۔خوشی و خرمی نصیب کرنا۔اور اس مسلسل اور متواتر طور پر کرتے چلے جانا۔دائم رہنا) صَلَّى الْفَرَسُ إِذَا بارہ میں دعائیں قبول کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔اور ایک معنے اس کے یہ ہیں کہ حقیقی طور پر ہم ہر رنگ میں اللہ تعالی ہی کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔اسی کے احسان مند ہیں۔اسی سے بقا اور دوام چاہتے ہیں۔اسی کے ہم پرستار ہیں۔اور بقائے دوام اور سلامتی کے لئے اسی کے حضور ہماری تمام دعائیں اور التجائیں ہیں۔اور اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ اگر ہم کسی اور کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔کسی کے لئے بقا اور دوام چاہتے ہیں۔کسی کو عزت کے خطابات سے مخاطب کرتے ہیں اور ہر رنگ میں اس کی خوشی و خرمی اور کامرانی چاہتے ہیں۔تو اس کی ذات کی خاطر نہیں۔بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے لئے اور اللہ تعالٰی کو راضی کرنے کے لئے ہم ایسا کرتے ہیں اور ہماری تمام قولی عبادتیں اسی کے لئے مخصوص ہیں۔(۲) الصَّلَواتُ کا لفظ صلوۃ کی جمع ہے جو فعل صلَّی کا اسم مصدر ہے۔اور اس کے معنے ہیں الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ (نماز) الدُّعَاءُ الله تعالیٰ کو پکارنا) الاستغفارُ ( اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی بخشش۔غلطیوں سے حفاظت اور عصمت۔اور ان کے بد نتائج سے بچائے جانے کی درخواست کرنا) الرَّحْمَةُ الله تعالٰی کی رحمت و عطوفت) حُسنُ الثَّنَاءِ (بهترین تعریف) السّرحَمُ (بار بار رحم کرنا) الدُّعَاءُ بِالْبَرَكَةِ وَالْخَيْرِ (خیر و برکت چاہتا ) التَّعْظِيمُ وَالتَّكْرِيمُ (اعزاز و اکرام کرنا۔عظمت جَاءَ مُصَلِيَّا وَالْمُصَلَّى مِنَ الْخَيْلِ الَّذِي يَجِئُ بَعْدَ السَّابِقِ - لِاَنَّ رَأْسَهُ يَلِى صَلَا الْمُتَقَدِّمِ (آگے آگے جانے والے کے بعد اس کے پیچھے آنے والے کا معا ساتھ ہی آپہنچنا۔اور درمیان میں وقفه یا فاصلہ نہ آنے دینا) الْمُصَلَّى فِي كَلَامِ الْعَرَبِ السَّابِقُ الْمُتَقَدِّمُ (اوروں سے آگے بڑھ جانا) صَلَّى يَدَهُ بِالنَّارِ سَخَّنَهَا شدت سردی کے وقت آگ تاپنا) (لسان العرب) نیز اس کے معنے دوام ترقی کے ہیں۔(حاشیہ صحیح مسلم طبع مصر مطبع بابی ملی)۔اور اس کے معنے جسمانی اور فعلی عبادت کے بھی کئے جاتے ہیں (زرقانی شرح موطا)۔پس و الصَّلَوَاتُ يله) کے معنے یہ ہیں کہ ہم حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کی ہی تعظیم اور تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور اسی سے لزوم اور دوام کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں۔اسی کے حضور دعائیں اور استغفار کرتے ہیں۔اسی کے لئے ہم نمازیں پڑھتے ہیں۔اسی سے ہم دائمی ترقی کی درخواست کرتے ہیں۔اور جس کی تعظیم و تکریم کرتے اور حسن ثناء بیان کرتے ہیں۔محض اسی کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔اور ان باتوں کی توفیق دینا بھی اسی کا کام ہے۔اور ہماری تمام فعلی عبادات بھی اسی سے خاص ہیں۔اس لفظ کا تعلق خصوصیت سے مستقبل اور آئندہ کے ساتھ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وحی الى صَلوةُ الْعَرْشِ إِلَى الْفَرَشِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔”یہ الہام