رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 121 of 169

رسالہ درود شریف — Page 121

رساله درود شریف رساله درود شریف جواب سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تشہد درود سے بالکل خالی ہے۔یا یہ کہ والی اور آپ سے ملاقات نصیب کرا دینے والی چیز ہے۔اور روحانی گھر کا بھی عند اللہ وہی حکم ہے جو ظاہری گھر کا حکم ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔درود کے الفاظ سلام کے ذکر سے خالی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب تشہد میں ایہا النبی کہنے کی وجہ اس کا الہامی ہونا ہے تشهد من السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِی کہہ کر آنحضرت مال پر سلام، رحمت اور برکات بھیجنے کی وجہ احادیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ تشہد کے کلمات الہامی ہیں جن میں آنحضرت کو مخاطب کیا گیا ہے۔اور الہامی الفاظ کو ان کی اصل صورت میں ہی بیان کیا جاتا ہے۔صحیح بخاری میں بروایت حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور پر (نماز میں) سلام بھیجنے کا طریق تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے۔درود آپ پر کس طرح بھیجا جائے۔جس پر حضور نے انہیں درود شریف کے وہ الفاظ سکھائے جو نمازوں میں پڑھے جاتے ہیں۔جس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تشہد کے کلمات جو سلام پر مشتمل ہیں الہامی ہیں۔السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ بطور تحیہ کہا جاتا ہے معلوم اس کے علاوہ معنوی پہلو سے بھی تشہد میں یہی الفاظ موزون ہوتے ہیں۔کیونکہ تشہد میں السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ كے الفاظ "جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے وہ اس میرے گھر میں داخل ہو جاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کی کلام میں یہ وعدہ ہے۔اِنّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے۔میں اس کو بچاؤں گا اس۔جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے اس خاک و خشت کے گھر میں بود و باش رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔" (کشتی نوح صفحہ ۱۰) پس اگر اس مناسبت کی بنا پر اس جگہ آنحضرت مال کے لئے جملہ ندائیہ اور خطاب کا صیغہ اختیار کیا گیا ہو، تو بھی کچھ بعید نہیں ہے۔بلکہ بالکل قرین قیاس ہے (1) بعض کلمات تشہد کی لغوی تحقیق تحِيَّاتُ تَحِيَّةُ کی جمع ہے۔اور تَحِيَّةٌ حسني کی مصدر ہے۔جس کا ماخذ یعنی اصل حیاۃ ہے جس کے معنے زندگی کے ہیں اور حسنی کے اس سلام کی صورت پر واقع ہوئے ہیں جو ملاقات کے موقع پر مخاطب سے کہا معنی ہیں لمبی زندگی اور بقا بخشا۔سلامتی بخشی۔تعظیم و تکریم کی۔احسان کیا۔جاتا ہے۔اور اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ نماز واقعی انسان کو رت ما کی بارگاہ عالی میں اور آپ کے روحانی گھر میں پہنچا دینے بادشاہت عطا کی۔خوشی و خرمی نصیب کی۔خاص عزت کے القاب اور شاہانہ خطابات سے مخاطب کیا۔سلام دیا۔سلامتی کے لئے دعا کی۔اور اس کا تعلق