رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 123 of 169

رسالہ درود شریف — Page 123

رساله درود شریف PFY ۲۲۷ رساله درود شریف آئندہ بشارت پر دلالت کرتا ہے" (بدر یکم جون ۱۹۰۵ء) اور ہدایت پائی جاتی ہے۔ان میں سے اذان کے بعد (بطریق مسنون) دعا کے وقت۔جمعہ کے روز۔آنحضرت ام کا ذکر آنے پر۔اور قبر نبوی پر درود۔(۳) الطَّيِّبَاتُ طَيِّبَةٌ (اور طیب) کی جمع ہے جس کے معنے ہیں۔دعائیں۔اذکار۔پاک کلمات۔پاک اموال۔صدقات اور مالی عبادات۔شریف پڑھنے کا ذکر اس سے قبل آچکا ہے۔اس لئے اسے دہرانے کی اور و الطلبات اللہ کے یہ معنے ہیں کہ ہمارے تمام اذکار اور تمام مالی ضرورت نہیں ہے۔اب چند ایسے مواقع کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس سے پہلے عبادات محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔اور یہ کہ ان باتوں کا میسر آنا اسی کے بیان نہیں ہوئے۔فضل و کرم سے وابستہ ہے۔نیز اس میں نعم الہیہ کا شکر اپنا کچھ نہ رکھنے اور سب کچھ اس کا کر دینے کا اقرار۔اور زیادت فضل کی دعا ہے۔(۴) السَّلامُ فعل سَلَّمَ کا اسم مصدر ہے۔جس کے معنے ہیں۔السلام دعاء قنوت میں دعاء قنوت کے آخر میں وَ صَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِيِّ يَا وَصَلَّى علیکم کہنا۔تمام عیوب آفات اور مصائب سے بچانا اور محفوظ رکھنا (اور تسلیم الله عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ کے الفاظ میں آنحضرت۔آنحضرت می پر درود بھیجنا کے معنے ان کے علاوہ یہ بھی ہیں کہ سپرد کر دیتا۔پورے طور پر رضامند ہو جاتا۔اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کر لینا۔اور ملاوٹ سے پاک رکھنا)۔(۵) رحمةُ کے معنی ہیں کسی کو تکلیف میں پاکر اس پر شفقت اور کرم کرنا۔اس کی تکلیف کو دور کرنا یا دور کرنے کی کوشش کرنا۔مہربان ہونا۔احسان کرنا اور قصوروں کو معاف کرنا۔خود بخود کرم کرنا۔محنت کا اچھا اجر دینا۔اور ضائع ہونے سے محفوظ رکھنا۔(1) بركة کے معنے ہیں بڑھنا۔دوام اور ثبات پاتا اور مستحکم ہو جانا۔سعادت پانا اور زوال سے محفوظ رہنا۔طہارت۔خوشنودی اور دوام شرف و کرامت۔درود شریف کے بعض دیگر مواقع ماثورہ دیگر جن مواقع میں درود شریف کے پڑھنے کی احادیث نبویہ میں تاکید متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔اور چونکہ دعا قنوت اس ماثور دعا کے علاوہ اور الفاظ میں بھی اور خود اپنی زبان میں بھی کی جا سکتی ہے بلکہ کرنی چاہئے۔اس لئے اس میں درود شریف بھی اپنی زبان میں یا جن الفاظ میں چاہیں پڑھا جا سکتا ہے نماز جنازہ میں نماز جنازہ میں بھی دوسری تکبیر کے بعد درود شریف کا پڑھنا ضروری ہے۔اور اس کے لئے مقدم الفاظ وہی ہیں جو نماز میں پڑھے جاتے ہیں۔اور ان کے علاوہ خود اپنی زبان میں بھی درود پڑھنا اور اس میں گزشتہ صالحین کے لئے بھی دعائیں کرنا چاہئے۔اور اس درود میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شامل اور یاد کر لینا چاہئے۔