رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 120 of 169

رسالہ درود شریف — Page 120

رساله درود شریف ۲۲۰ ۲۲۱ رساله درود شریف مُبرَكَةٌ طَيِّبَةٌ میں تحیہ ہی رکھا گیا ہے۔اور الصلوات کے مقابل پر رحمہ ہے اور رَحْمَةُ الله ایک رنگ میں صلوۃ یعنی درود اور بَرَكَاتُهُ سلام اللہ کا لفظ ہے اور یہ معنے صلوٰۃ کے خود کتب لغت میں مذکور ہیں۔اس کے ہے۔تو یہ بات خود بخود روشن ہو جاتی ہے کہ تشہد میں بھی درود اور سلام علاوہ حدیث وَالْمَلَيْكَةُ تُصَلَّى عَلَى أَحَدِكُمْ مَّا دَامَ فِي میں وہی ترتیب رکھی گئی ہے جو قرآن کریم میں ہے یعنی صلوٰۃ پہلے ہے اور مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيْهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ ارْحَمُہ میں صلوۃ کے لئے دوسرا لفظ رحمت لایا گیا ہے اور نماز کے لئے مسجد میں آنے کے وقت جو دعا پڑھنے کی ہدایت ہے اس میں بھی صلوٰۃ کی جگہ رحمت کا لفظ ہی آتا ہے۔اور الطَّيِّبَات کے مقابل پر برکات کا لفظ لایا گیا ہے۔اور طیب اور برکت میں جو تعلق ہے وہ آست مزکورہ بالا کے الفاظ مُبَارَكَةٌ طَيِّبَةٌ سے اور قومہ نماز کے وقت کہے جانے والے الفاظ حَمَّدًا كَثِيرًا طَيِّبًا تُبَارَكَا فیہ سے ظاہر ہے۔پس اس میں کچھ شک نہیں کہ تشہد میں رَحْمَةُ الله سے مراد صلوٰۃ اللہ یعنی درود ہے جس کی طرف امام نسائی نے بھی اپنی سنن میں ایماء کیا ہے۔چنانچہ انہوں نے باب تَخَيَّرُ الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلوةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نماز میں آنحضرت ا م پر درود بھیجنے کے بعد جو دعا کرنا چاہیں کر سکتے ہیں) میں حدیث وہی بیان کی ہے جس میں تشہد کے بعد نماز کے حال دعائیں کرنے کے متعلق اختیار کا ذکر ہے۔اور اس میں تشہد کے علاوہ درود پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ تشہد میں درود بھی آجاتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب صلوٰۃ اور سلام کی ترتیب سلام اس کے بعد۔اور یہی ترتیب الفاظ درود شریف کے دونوں حصوں اَللّهُمَّ صَلّ اور اللهُمَّ بَارِک میں بھی ہے علاوہ اس کے صلوٰۃ اور سلام ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم ہیں۔اور اس لحاظ سے انہیں متحد بھی کہا جا سکتا ہے۔اور کچھ بعید نہیں ہے کہ اسی بنا پر قرآن کریم میں اِنَّ اللهَ وَمَلَكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ كے ساتھ وَيُسْلِمُونَ عَلَيْهِ اوريايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلّوا عَلَيْهِ کے ساتھ صلوٰۃ کا لفظ نہ لایا گیا ہو اور يُصَلُّونَ اور تَسْلِيمًا کو ہی يُسَلِّمُونَ اور صلوۃ کا بھی قائمقام قرار دیا ہو۔اور اس صورت میں تقدیم و تاخیر کا سوال ہی اٹھ جاتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب اور چونکہ قرآن کریم میں صلوا اور سَلِّمُوا میں دو الگ الگ لفظوں کے ساتھ درود اور سلام کا حکم دیا گیا ہے اور ان میں من وجہ مغائرت بھی پائی جاتی ہے۔اور تشہد میں (جس کی تعلیم صحابہ کرام کو کیفیت درود کی تعلیم سے پہلے دی گئی تھی) سلام کا ذکر صریح لفظوں میں بھی تھا اور مکرر بھی۔اور صلوٰۃ کا ذکر صرف ایک بار اور وہ بھی بالمعنی تھا۔اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنم نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ جس طرح ہمیں سلام کی تعلیم دی گئی ہے اسی طرح درود شریف کی تعلیم بھی دی جائے۔جس پر حضور نے انہیں درود شریف کا وہ طریق بتایا۔جس میں اور جب یہ بات ذہن نشین ہو جائے کہ تشہد کے اندر بھی درود موجود صلوٰۃ کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے اور سلام کا بالمعنی۔پس اس سوال اور