رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 119 of 169

رسالہ درود شریف — Page 119

۲۱۹ ر سیال و رساله درود شریف PIA ہے۔اور بعض اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنم جیسے حضرت عبد اللہ بن عمر حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہم اور بعض تابعین جیسے ابو جعفر محمد بن علی ، شعبی اور مقاتل بن حیان نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔نوٹ۔حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ پہلے تشہد کے بعد بھی درود شریف پڑھنا چاہئے۔ہاں واجب نہیں اور زیادہ تر صحابہ تابعین اور ائمہ کا یہ قول ہے کہ گو درود شریف کا نماز میں پڑھنا بہت ضروری ہے مگر مسنون سے بڑھ کر نہیں ، اس لئے اس کے بغیر بھی نماز ہو جاتی ہے۔جس کی بنا یہ ہے کہ بعض احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تشہد کے بعد (نماز کے مناسب حال) جو دعائیں کرنا چاہیں کر کے سلام پھیر سکتے ہیں۔چنانچہ بخاری میں باب مَا يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدَ التَّشْهَدِ وَلَيْسَ بِوَاجِبِ (تشہد کے بعد نمازی جو دعا کرنا چاہے کر سکتا ہے اور دعا کرنا ضروری نہیں ہے) میں جو حدیث مذکور ہے۔اس میں تشہد کے کلمات کے ذکر کے بعد آتا ہے۔ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو یعنی تشہد سے فارغ ہو کر جو دعا انسان کو سب سے اچھی معلوم ہو۔وہ کر سکتا ہے، جس میں درود کا کوئی ذکر نہیں ہے۔پس معلوم ہوا کہ درود شریف کے بغیر بھی نماز درست ہو سکتی ہے۔تشہد میں بھی درود آ جاتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ اختلاف اس بارہ میں نہیں کہ نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہے یا نہیں۔بلکہ در حقیقت اختلاف اس امر کے متعلق ہے کہ آیا نماز میں تشہد کے بعد درود شریف کا پڑھنا ضروری ہے یا نہیں۔یا بلفظ دیگر قعدہ میں تشہد کے بعد از سر نو درود شریف کا پڑھنا ضروری ہے یا نہیں۔کیونکہ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے، تشہد میں بھی درود شریف آیا ہوا ہے اور تشہد کے پڑھنے سے ایک رنگ میں درود شریف بھی پڑھا جاتا ہے۔اور اس میں شک نہیں کہ احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں درود شریف کا پڑھنا اشد ضروری ہے۔اور تشہد کے بعد مستقل الفاظ میں از سرنو درود شریف پڑھنا پوری صراحت کے ساتھ اس قدر ضروری ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے بغیر نماز ہوتی ہی نہ ہو۔ہاں جو احادیث کیفیت درود شریف کے متعلق مردی ہیں، ان میں سے اکثر کا سیاق کلام یہی بتاتا ہے کہ نماز میں جس طرح تشہد ضروری ہے اسی طرح اس کے بعد درود شریف کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔تشہد میں درود کس طرح آتا ہے اس جگہ اس بات کو واضح کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تشہد کے اندر درود شریف کس طرح آتا ہے۔سو واضح ہو کہ تشہد کے دوسرے جملہ السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا التَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مِیں رَحْمَةُ الله سے مراد صلوۃ یعنی درود ہے جس کا قرینہ یہ ہے کہ التَّحِيَّاتُ اللهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَات کے بعد واقع ہے اور ان دونوں جملوں میں تین تین امور کا ذکر ہے جو ایک دوسرے کے مقابل پر واقع ہیں۔اَلتَّحِيَّاتُ کے مقابل پر السّلام کا لفظ ہے جس کا نام قرآن کریم کی آیت فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةٌ مِّنْ عِندِ اللهِ