رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 109 of 169

رسالہ درود شریف — Page 109

رساله درود شریف ۱۹۸ ١٩٩ رساله درود شریف اور اسی کو اپنی حقیقی خوشی کا سامان سمجھے۔اور اس کے بعد عمدہ طور پر درود بھیجنے کا ایک طریق سکھایا گیا ہے۔درود شریف کے مختلف طریق احادیث سے ثابت ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک طریق اپنے اندر ایک نہ ایک خصوصیت رکھتا ہے۔اس حدیث میں جو طریق بتایا گیا ہے اس میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ اول تو اس میں آنحضرت میا کے اسم مبارک کے ساتھ لفظ النبی بڑھایا گیا ہے اور یہی لفظ ہے جس کے ذکر کے ساتھ قرآن کریم میں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔اور اس کے ذکر کے ساتھ قرآن کریم میں تمام مومنوں کو آپ کی اولاد اور آپ کی ازواج مطہرات کو ان کی مائیں قرار دیا گیا ہے (اور گو اس نام کا مصداق ہونے میں تمام انبیاء شامل ہیں۔لیکن پیشگوئیوں میں اسے آپ کی طرف خاص ممتاز طور پر منسوب کیا گیا ہے اور اس وصف میں آپ کو ایک رنگ میں یکتا اور منفرد بتایا گیا ہے) پس اس نام کا درود کے ساتھ بہت تعلق ہے۔اسی طرح اس میں ازواج نبویہ کا ذریت طیبہ کا اور بیت نبوی کے ساتھ وابستہ ہونے والے تمام افراد کا تصریح کے ساتھ ذکر ہے اور جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے درود کی دعا میں اس سے بہت زور پیدا ہو جاتا ہے اور کما صَلَّيْتَ اور حَمِيدٌ مَّجِید کے الفاظ کے بڑھانے سے بھی اس میں قوت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے (سورہ ہود کی آیت رَحْمَةٌ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيْدُ من صلوٰۃ کو رحمت سے تعبیر کر کے اس کو صفت حمید مجید کا فیضان بتایا گیا ہے اور دعاؤں میں صفات الہی کو ذکر کرنے سے بموجب آیت وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا جو قوت اور قبولیت کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے وہ ظاہر ہی ہے۔(واللہ اعلم بالصواب) کی محبت اور دلی خلوص سے آنحضرت مالی پر درود بھیجنے کی تعلیم (۳۳) عَنْ عُمَيْرِ الْأَنْصَارِي الْبَدْرِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى صَادِقًا مِنْ نَّفْسِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عُشَرَ صَلَوَاتٍ وَرَفَعَهُ عشرَ دَرَجَاتٍ وَ كَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ (جلاء الافہام صفحہ ۷۳ بحوالہ عبد الباقی بن قانع) صلی ترجمہ - حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت مم العالم نے فرمایا ہے جو شخص مجھ پر دلی خلوص سے (ایک بار) درود بھیجے گا۔اس پر اللہ تعالٰی دس بار درود بھیجے گا اور اسے دس درجات کی رفعت بخشے گا اور اس کی دس نیکیاں لکھے گا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ درود پر اعلیٰ ثمرات اور برکات کے مرتب ہونے کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ دلی توجہ سے اور اخلاص سے آپ پر درود بھیجا جائے (۳۳) عَنْ أَبِى كَاهِلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ وَكُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حُبًّا أَوْ شَوق إِلَيَّ كَانَ حَقًّا