رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 110 of 169

رسالہ درود شریف — Page 110

رساله درود شریف عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَذَلِكَ الْيَوْمَ (جلاء الافہام صفحه ۳۴۹ بحوالہ کتاب ابن ابی عاصم ) حضرت ابو کاہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں نے ( مجھے مخاطب کر کے) فرمایا اے ابو کاہل جو شخص میری محبت کی بنا پر یا (یہ فرمایا کہ میرے اشتیاق کے ساتھ مجھے پر ہر روز تین بار اور ہر رات تین بار درود بھیجے گا۔اللہ تعالیٰ اس روز اور اس رات ضرور ہی اسے ان تمام گناہوں سے بچائے گا جن میں وہ گرفتار ہے۔اور اسے ان سے محفوظ رکھے گا نوٹ۔قرآن کریم سے اور سنت سے پانچ نمازوں کے علاوہ تہجد کی نماز کی بھی بڑی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔اور نماز تہجد کو ملا کر آٹھ پہر کی چھ نمازیں ہوتی ہیں۔تین دن کی (فجر ظہر۔عصر) اور تین رات کی (مغرب۔عشاء اور تجد) اور گوان میں سے ہر ایک وقت کی نماز میں متعدد مرتبہ درود شریف پڑھا جاتا ہے لیکن کم از کم ایک بار تو ہر حالت میں پڑھا جاتا ہے خواہ انسان سفر میں ہو یا گھر میں۔پس ہر ایک نمازی دن کے وقت بھی اور رات کو بھی کم از کم تین بار ضرور درود شریف پڑھتا ہے علاوہ اس کے اگر چھ اوقات کے درود کو چھ بار کا درود سمجھا جائے۔اور ایک وقت کے اندر جتنی دفعہ بھی درود پڑھا گیا ہو۔اسے اس ایک وقت کے لحاظ سے ایک بار کا درود قرار دیا جائے تو یہ بھی قرین قیاس ہے۔پس بالکل ممکن ہے کہ اس حدیث میں اسی بات کی طرف اشارہ ہو۔نیز اس حدیث میں جو آٹھ پہر کے اندر چھ بار درود پڑھنے کی فضیلت اور برکت بیان ہوئی ہے۔وہ مغفرت ذنوب ہے۔جن کے معنے گناہوں کی بخشش کے ہی نہیں ہیں بلکہ گناہوں سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے بھی ہیں رساله درود شریف اور نماز کی جو برکات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ والْمُنْكَرِ یعنی نماز تمام بدیوں اور مکروہ باتوں سے روکتی اور بچاتی ہے۔حصہ پس اس حدیث میں اشارہ ہے کہ درود شریف نماز کا ایک نہایت اہم ہے جس کے بغیر نماز میں نماز کی حقیقت پیدا نہیں ہو سکتی۔اور کچھ بعید نہیں کہ نماز کا اور درود کا ایک ہی نام یعنی صلوۃ اسی بنا پر رکھا گیا ہو۔نماز میں اور درود میں جو تعلق ہے اس کا پتہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی لگتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کتاب البیوع میں مروی ہے۔اور جس میں آتا ہے:۔وَالْمَلَئِكَةُ تُصَلَّى عَلى أَحَدِكُمْ مَّا دَامَ فِي مُصَلَاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثُ فِيهِ مَا لَمْ يُوَذِ فِيْهِ (صحیح بخاری) جب تک نمازی اپنی نماز کی جگہ میں (نماز کی خاطر) بیٹھا رہتا ہے۔اس پر فرشتے یوں درود بھیجتے رہتے ہیں۔کہ اے اللہ اس پر درود بھیج اے اللہ اس پر رحمت نازل کر۔اور ان کی یہ دعا اس وقت تک برابر جاری رہتی ہے۔جب تک کہ وہ وہاں کوئی خلاف شریعت کام نہ کرے۔یا یہ کہ وہ باوضو ہو۔اور جب تک کہ اس کا وہاں ٹھہرنا لوگوں کے لئے اذیت کا موجب نہ بنے۔اور یہ برکت اور فضیلت احادیث میں درود شریف کی بھی بیان ہوئی ہے۔چنانچہ سنن ابن ماجہ کی ایک حدیث میں ہے:۔عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلَّى عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ