رسالہ درود شریف — Page 108
ر ساله درود شریف 194 رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلوةِ الْقَائِمَةِ أتِ مُحَمَّدُ الوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَتْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحیح بخاری) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں نے فرمایا۔جو شخص اذان سن کر یوں دعا کرے اے اللہ جس کی طرف بلانے کے لئے اور جس کے نام پر یہ اذان کہی گئی ہے۔اور جس کے لئے اب نماز ادا ہو گی تو محم مام کو وسیلہ اور فضیلت کا مقام عطا کر اور قیامت کے روز آپ کو اس مقام پر کھڑا کر یو۔جس میں تمام مخلوق آپ کی ممنوں احسان ہو۔جس کا تو نے آپ سے وعدہ کیا ہوا ہے، اسے قیامت کے روز میری شفاعت نصیب ہو گی۔نوٹ ۲۔اس حدیث میں آپ پر عمدگی کے ساتھ درود بھیجنے کی تاکید اور اس کی فضیلت اور برکت کے ذکر کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ درود میں آپ کے رفع درجات کے لئے اور اس بات کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں کہ آپ کے فیوض و برکات اور انوار سے تمام مخلوق فیضیاب ہو۔اور کوئی فرد بشر ان سے محروم اور بے نصیب نہ رہے۔نیز اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت میای پر درود بھیجنے کا یہی ایک طریق نہیں ہے کہ لفظ صلوۃ کے ساتھ آپ کے لئے دعا کی جائے۔بلکہ اصل مقصود وہ مدعا ہے جو درود کی دعا میں مانگا جاتا ہے، اس کے لئے الفاظ جو بھی مناسب اور موزون مل جائیں، ان میں یہ دعا کی جا سکتی ہے۔ہاں خاص مواقع اور مقامات کے لئے جو خاص الفاظ درود شریف کے بتائے گئے ہیں ان کی پابندی ضروری ہے۔پس نماز میں وہی درود پڑھنا چاہئے جسے نماز میں پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔192 ر ساله درود شریف اور جو الفاظ اذان کے بعد کہنے کا حکم ہے اس موقع پر انہی الفاظ میں دعا کرنی چاہئے۔(۳۲) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِي وَازْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (من الى داود)۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں نے فرمایا جس شخص کے لئے یہ امر موجب خوشی ہو کہ جب وہ ہم لوگوں پر جو اس گھر کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں درود بھیجے تو اس کے حصہ میں بہت ہی۔بڑا اور کامل پیمانہ آئے۔اسے ہم پر یوں درود بھیجنا چاہئے اے اللہ اپنے کامل اور یکتا نبی محمد میر پر اور آپ کی سب بیویوں پر جو تمام مومنوں کی مائیں ہیں اور آپ کی تمام اولاد پر اور تمام آپ کے گھر کے ساتھ تعلق رکھنے والوں پر درود بھیج۔جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم (اور ان کی آل پر درود بھیجا ہے۔تو بہت ہی تعریف والا اور بزرگی والا ہے اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ درود بھیج کر انسان اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کے رسول م م پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جسے وہ خود لے رہا ہوتا ہے (ناپ کر دینے کو عربی زبان میں کیل کہتے ہیں اور ناپ کر لینے کو اکتیال کہتے ہیں۔یہاں پر کیل کا لفظ نہیں۔بلکہ اکتیال کا لفظ استعمال ہوا ہے) پس جو شخص اس سعادت سے بہرہ یاب ہونا چاہتا ہو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر رنگ میں اچھے سے اچھے طریق پر درود بھیجے