رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 92 of 169

رسالہ درود شریف — Page 92

رساله درود شریف صل عالمی دوم ترجمہ۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت اور رات کا دو تہائی حصہ گذر چکنے کے وقت اٹھ کر اپنے گھر والوں اور ارد گرد کے لوگوں کو نماز تہجد کے لئے جگا کر انہیں فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو اللہ کو یاد کر لو۔اللہ کو یاد کر لو۔وہ ہولناک زلزلہ آور) گھڑی سریر آ پہنچی ہے جس کے بعد ساتھ ہی دوسری اور بھی زیادہ ہولناک گھڑی آجائے گی۔موت مع ان آفات کے جو اس کے آنے کے ساتھ آجاتی ہیں، سر پر آپہنچی ہے۔ہاں وہ موت مع اپنے ساتھ کی آفات کے بس آہی پہنچی ہے اس حدیث کے راوی) ابی کہتے ہیں میں نے (ایک رات حضور کے جگانے پر اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ۔میں اپنی دعا کا ایک بہت بڑا حصہ حضور کے لئے مخصوص کر دیا کرتا ہوں۔(مگر بہتر ہو کہ حضور ارشاد فرما دیں کہ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ حضور کے لئے مخصوص کیا کروں۔فرمایا جتنا چاہو۔میں نے عرض کیا ایک چوتھائی؟ فرمایا جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ (حصہ میرے لئے مخصوص کیا کرو تو زیادہ بہتر ہو گا۔میں نے عرض کیا نصف حصہ ؟ فرمایا جتنا چاہو۔اور اگر اس سے بھی بڑھا دو تو اور بھی بہتر ہو گا۔میں نے عرض کیا دو تہائی فرمایا جتنا چاہو اور اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو اور بھی بہتر ہو گا۔میں نے عرض کیا کہ میں آئندہ اپنی تمام دعا کو حضور کے لئے ہی مخصوص رکھا کروں گا۔فرمایا اس میں تمہاری ضرورتیں اور حاجتیں آجائیں گی۔اور اللہ تعالیٰ تمہارے سارے کام درست کر دے گا۔اور تمہاری ساری مرادیں پوری کر دے گا اور کو تاہیوں کو معاف کر دے گا۔اس حدیث کے مضمون کی تصدیق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فعل سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔ہر ۱۶۵ کیسے اندر نماز خود دعائے میکند رساله درود شریف من دعا ہائے بر و بار تو اے باغ و بہار یعنی دوسرے لوگ تو اپنی نماز میں اپنے ذاتی مطالب کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔مگر میں محض آنحضرت امام کے مقاصد کے پورا ہونے کے لئے اور حضور کے رفع درجات کے لئے دعائیں کیا کرتا ہوں۔اور اس حدیث میں یہ بھی تعلیم پائی جاتی ہے کہ سچے مومن کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے دعائیں کرنے پر اسلام کی ترقی کے لئے۔اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے۔آنحضرت امام کے تمام مقاصد کے پورا ہونے کے لئے۔آپ کی حقیقی شان کے لوگوں پر روشن ہونے کے لئے اور آپ کے فیوض و برکات سے سب لوگوں کے کامل طور پر فیضیاب ہونے کے لئے اور اسی طرح دین اسلام کی ترقی کے لئے دعائیں کرنے کو ہمیشہ اور ہر حال میں مقدم رکھے۔اور اپنے تمام مقاصد کو آنحضرت میر کے مقاصد کے تابع کر دے۔اور کوئی ایسا مقصد اپنا نہ بنائے جو آنحضرت کے مقاصد سے خارج ہو۔اور اپنی تمام دعاؤں کا مرکزی نقطہ درود شریف کو بنائے۔اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص یہ مسلک اختیار کرتا ہے اس کی تمام ضرورتوں کے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ آپ ہی متکفل ہو جاتا ہے۔وَمَا التَّوْفِيْقُ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ - اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آنحضرت مسلم پر درود بھیجنا حسن خاتمہ اور بہترین موت نصیب ہونے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے کیونکہ اس حدیث میں برے انجام سے ڈرا کر اس سے بچنے کا یہ ذریعہ بتایا گیا ہے کہ آدھی رات کے بعد اٹھ کر نماز میں خدا