رسالہ درود شریف — Page 91
ر ساله درود شریف ۱۶۲ سے زیادہ تعلق اور قرب رکھنے والا شخص وہ ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت م پر کثرت سے درود بھیجنے والے کو آپ کے ساتھ روحانی مناسبت اور خاص تعلق حاصل ہو جاتا ہے۔جس سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں ہے۔(٣) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي كُلِّ موطنٍ أَكْثَرُكُمْ عَلَيَّ صَلوةٌ فِي الدُّنْيَا (۱۳) ۱۶۳ ر ساله درود شریف عَنْ رُوَيْفِعِ ابْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَانْزِلَهُ الْمَقْعَدَ المُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي طلاء الافہام صفحہ ۵۸ بحوالہ معجم کبیر طبرانی) ترجمہ: روس فع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت لم نے فرمایا۔جو شخص میرے لئے یہ دعا کرے گا کہ اے اللہ آنحضرت پر درود بھیج اور آپ کو قیامت کے روز اپنے خاص قرب کے مقام میں جگہ دیجیو اسے میری شفاعت نصیب ہوگی۔( تفسیر در منشور بحواله شعب الایمان للبیهقی و تاریخ ابن عساکر) درود شریف تمام دعاؤں کی جامع اور سب سے افضل دعا ہے ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا۔قیامت کے روز اسدن کے ہر ایک ہولناک) مقام میں تم میں سے سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہو گا۔جس نے دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہو گا۔درود شریف قیامت کے روز شفاعت نبوئی کا ذریعہ ہو گا ) عَنْ أَبِي بَكرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ والصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى كُنتُ شَفِيْعَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (جلاء الافہام صفحہ ہے بحوالہ ابن شاہین) ترجمہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ملی الہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص مجھ پر درود بھیجے گا۔قیامت کے روز میں اس کی شفاعت کرونگا۔(۱۳) عَنْ أَبِي ابْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُنَا اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ يايُّهَا النَّاسُ اذْكُرُو اللَّهَ اذْكُرُوا اللَّهَ جَانَتِ الرَّاحِفَةٌ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ- جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فيهِ- قَالَ أَبَيُّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكْثَرُ الصَّلوةَ علَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلوَتِي - قَالَ مَاشِتَتَ۔قُلْتُ الربع ؟ قَالَ مَا شِئتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ قُلْتُ النِّصْفُ قَالَ مَا شِئْتَ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرُ قُلْتُ فَالقُلتَيْنِ؟ قَالَ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرُ قُلْتُ اَجْعَلُ لَكَ صَلوتِيْ كُلَّهَا قَالَ إِذَا تكفى هَمَّكَ وَيُغْفَرَ لَكَ ذُنُبُكَ هَذَا حَدِيثُ حَسَنَّ (جامع تر مندی)