رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 89 of 169

رسالہ درود شریف — Page 89

رساله درود شریف ۱۵۸ نے فرمایا ہے جو شخص ایک دن میں ہزار بار مجھ پر درود بھیجے گا وہ اسی زندگی میں جنت کے اندر اپنا مقام دیکھ لے گا۔اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت مال پر کثرت سے درود بھیجنے والا اقرب راہ سے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَة اَنْ لا تَخَافُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُم تُوعَدُونَ ( حم سجدہ: ۳۱) کے مطابق اسی زندگی میں جنت کی بشارت بلکہ خود جنت کو پالیتا ہے۔مگر جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔محض کثرت تعداد کوئی چیز نہیں۔جب تک اس کے ساتھ جوش محبت نبوی اور دلسوزی نہ ہو۔وَمَا التَّوْفِيقٌ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ درود شریف نجات اخروی کا ذریعہ ہے آنحضرت پر درود بھیجنے میں خود درود بھیجنے والے کی بہتری اور بہبودی ہے (٢) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَنْجُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَهْوَالِهَا وَمَوَاطِنِهَا أكْثَرُكُمْ عَلَيَّ فِي الدُّنْيَا صَلوةٌ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي اللهِ وَمَلَئِكَتِهِ كِفَايَةٌ وَلَكِنْ حَقَّ الْمُؤْمِنِينَ بِذلِكَ فَيُنيبهم عَلَيْهِ (تفسیر در منشور بحواله ترغیب اصفهانی و مسند دیلمی) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت امام نے فرمایا قیامت کے روز اسدن کے خطرات سے اور ہولناک مواقع سے تم میں سے سب سے زیادہ محفوظ اور نجات یافتہ وہ شخص ہو گا۔جو دنیا میں مجھ پر ۱۵۹ رساله درود شریف سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا۔(میرے لئے تو اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں کا درود ہی کافی تھا۔یہ تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ثواب پانے کا ایک موقع بخشا ہے۔اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ درود گناہوں کا کفارہ ہے۔اور وہ حدیث یہ ہے:۔(4) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى ANWALLEN ANGE وَسَلَّمَ صَلّوا عَلَى فَإِنَّ الصَّلوةَ عَلَيَّ كَفَّارَةٌ لَّكُمْ فَمَنْ صَلَّى عَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا (جلاء الافہام بحوالہ کتاب الصلوة على النبي من امام علی ابن ابی عاصم ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے مجھ پر درود بھیجا کرو۔کیونکہ مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لئے ایک کفارہ ہے۔جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اس پر اللہ تعالیٰ دس بار درود بھیجے گا۔اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس مجلس میں آنحضرت امی پر درود بھیجا جائے اس سے اٹھنے سے قبل درود بھیجنے والے کے گناہ بخشے جاتے ہیں اور وہ حدیث یہ ہے:۔(۸) عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ سَيَّارَةً مِّنَ الْمَلَئِكَةِ إِذَا مَرُوا بِحَلَقِ الذِّكْرِ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِ اقْعُدُوا فَإِذَا دَعَا الْقَوْمُ امَنُوا عَلَى دُعَائِهِمْ فَإِذَا صَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّوا مَعَهُمْ حَتَّى يَفْرُغُوَالُمَّ يَقُولَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ