رسالہ درود شریف — Page 90
ر ساله درود شریف طُوبَى لِهَؤُلَاءِ يَرْجِعُونَ مَغْفُورًا لَّهُمْ جلاء الافہام صفحه ۲۴ بحوالہ فوائد ابو سعید قاص) ترجمہ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضر لم نے فرمایا۔اللہ تعالی کے فرشتوں کی ایک جماعت اس کام پر متعین ہے۔کہ وہ پھرتے رہتے ہیں۔اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کسی مجلس کے پاس پہنچتے ہیں تو وہاں ٹھہر جاتے اور ایک دوسرے کو ٹھہرا لیتے ہیں۔پس جب وہ لوگ دعا کریں۔تو فرشتے آمین کہتے ہیں۔اور جب وہ خدا کے نبی می ایم پر درود بھیجیں تو وہ فرشتے بھی درود بھیجنے میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور جب وہ لوگ اس کام سے فارغ ہو کر واپس جانے لگتے ہیں تو فرشتے ایکدوسرے کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیا ہی خوش نصیب ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور بخشش پا کر واپس جا رہے ہیں۔اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ درود شریف بھی ذکر الہی ہی ہے۔ذکر الہی اسی بات کا نام نہیں ہے کہ تسبیح و تقدیس اور تحمید الہی کی جائے بلکہ دعا اور درود شریف بھی ذکر الہی ہی ہے۔اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے موقوفا مردی ہے۔کہ آنحضرت میں پر درود بھیجنا انسان کو گناہوں سے بالکل پاک کر دیتا ہے۔اور وہ روایت یہ ہے:۔عَنْ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الصَّلَوةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْحَقُ لِلْخَطَايَا مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ وَالسَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عِشقِ الرِّقَابِ وَ حُبُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ 191 رساله درود شریف مِنْ مُهَجِ الْأَنْفُسِ أَوْ قَالَ مِنْ ضَرْبِ السَّيْفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تفسیر در منشور بحواله تاریخ خطیب و ترغیب اصفهانی) ترجمہ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت پر درود بھیجا اس سے بھی کہیں بڑھ کر گناہوں کو نابود کرتا ہے۔جتنا کہ ٹھنڈا پانی پیاس کو اور آپ پر سلام بھیجنا گردنوں کو آزاد کرنے سے بھی زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔اور آپ کی محبت اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے یا جہاد کرنے سے بھی افضل ہے۔اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ درود اور سلام کی بنا محبت نبوی پر ہونی چاہئے اور اسی صورت میں وہ گناہوں سے بھی نجات دلاتا ہے۔جب کسی دل میں آنحضرت ما کی محبت جاگزیں ہو۔اور اس محبت کی بنا پر اس سے آنحضرت میم کے حق میں درود اور سلام نکلے۔تو اس دل میں کوئی گناہ نہیں ٹھر سکتا۔اور محبت نبوئی کے بغیر درود کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔درود شریف قیامت کے روز آنحضرت کے ساتھ خاص تعلق اور قرب کا ذریعہ ہو گا () عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله | صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أكْثَرُهُمْ عَلَى صَلوةٌ ( ) (جامع ترندی) جمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ م نے فرمایا ہے۔قیامت کے روز میرے ساتھ تمام لوگوں