رسالہ درود شریف — Page 88
رساله درود شریف ۱۵۶ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيمًا (احزاب: ۴۴) میں بتایا ہے۔کہ جس شخص پر اللہ تعالیٰ درود بھیجتا ہے۔وہ دمبدم ظلمات سے نکلتا چلا جاتا ہے۔اور انوار الیہ میں داخل ہوتا جاتا ہے۔اور یہ رحمت اس پر بار بار اپنا فیضان کرتی ہے۔حتی کہ ایک وقت اس پر ایسا آجاتا ہے۔کہ وہ خدا تعالیٰ کا خاص مقرب ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کی بشارتیں آنے لگتی ہیں۔اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اجر اور کرامت پاتا ہے۔پس معلوم ہوا۔کہ آنحضرت مسلم پر درود بھیجنا ان برکات کا ذریعہ ہے۔اور جب اس آیت کے ماقبل کو دیکھا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ یہ فیضان الی آنحضرت میں کی ختم نبوت کی برکات میں سے ہے۔اور یہ کہ جس قدر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی اس رحمت اور اس احسان کو یاد کر کے اس کا شکر بجا لائے گا۔اسی قدر اس پر یہ فیضان زیادہ ہو گا۔سبحان اللہ ! اس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں میں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک وحی میں بھی اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ الصَّلَوةُ هُوَ الْمُرَبِّى یعنی آنحضرت پر اور آنحضرت ام کی آل پر درود بھیجو۔کیونکہ آپ پر اور آپ کی آل پر درود بھیجنا ہی حقیقی تربیت کا ذریعہ ہے (یا یہ کہ آنحضرت م م پر اور آپ کی آل پر درود بھیجنے کا التزام رکھو۔کیونکہ آپ ہی کا وجود حقیقی مربی ہے۔اور اس فیضان کا حصول آپؐ پر درود بھیجنے سے وابستہ ہے) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اپنے ایک مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحب رضی اللہ عنہ میں ود شریف کو تنویر باطن اور استقامت کا ذریعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے - صلی ای آروم ۱۵۷ رساله درود شریف ہیں۔” یہی درود شریف (یعنی جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ناقل) پڑھیں اس کی ولی ذوق اور محبت سے مداومت (یعنی ہمیشگی۔ناقل) کی جائے۔تو زیارت رسول کریم بھی ہو جاتی ہے۔اور تنویر باطن اور استقامت دین کے لئے بھی بہت موثر ہے۔" (مکتوبات احمد یہ جلد نمبر ۳ صفحه ۷) ۵ درود شریف جنت کی راہ ہے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَّبِيِّ الصَّلوةَ عَلَى خَطِئَ طَرِيق الجنه (سنن ابن ماجه ) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔کہ آنحضرت م نے فرمایا۔جس نے مجھ پر درود بھیجنا چھوڑا۔اس نے جنت کی راہ کو چھوڑ دیا۔یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما سے اور حضرت محمد بن حنفیہ سے بھی مروی ہے۔اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ کثرت سے درود شریف پڑھنے والا اسی زندگی میں جنت کے اندر اپنا مقام دیکھ لیتا ہے۔اور وہ حدیث یہ ہے (٥) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى فِي يَوْمٍ أَلْفَ مَرَّةٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يرى مُقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ - (جلاء الافهام بحوالہ ابن الغازى و كتاب الصلوۃ علی النبی لابی عبد اللہ المقدسی) ترجمہ :۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میم