رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 112 of 169

رسالہ درود شریف — Page 112

رساله درود شریف ۳۰۳ کثرت سے آنحضرت پر درود بھیجنے کی تاکید ۲۰۵ رساله و روو لغایت ۱۶۹ و صفحہ (۱۸۰) اور حق یہ ہے کہ جب تک درود میں یہ باتیں موجود نہ ہوں۔اس وقت تک وہ صلوۃ یعنی درود کہلا ہی نہیں سکتا۔جیسا کہ اس بارہ میں بہت سی احادیث مروی ہیں جن میں سے بعض احادیث پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بیان ہو چکی ہیں۔چنانچہ ایک حدیث تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ والی ہی ہے جو اس رسالہ کے صفحہ ۱۶۳ پر زیر نمبر ۱۳ گزر چکی ہے۔اور ایک حدیث عامر بن ربیعہ کی روایت سے صفحہ ۲۰۱ پر بیان ہو چکی ہے یہ دونوں حدیثیں کئی کئی سندوں کے ساتھ اور کسی قدر اختلاف الفاظ کے ساتھ رسول کریم ا ا ا ا ل ل لما سے مروی ہیں۔ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں تک وو صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسے ہی گدازش دعا میں ہونی چاہئے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔“ ( بدر جلد ۴ پر چه ۲۹ مئی ۱۹۰۵ء ) نیز ضروری ہے کہ اس دعا سے اصل مقصود رضاء الہی ہو نہ کہ دنیوی ممکن ہو اور انسان کو توفیق ملے کثرت سے آنحضرت پر درود بھیجنا مقاصد جیسا کہ حضور فرماتے ہیں چاہئے۔لیکن جیسا کہ احادیث نمبر ۲۹ لغایت نمبر ۳۵ سے ثابت ہوتا ہے کثرت تعداد کی نسبت یہ بات بہت زیادہ ضروری ہے کہ نہایت عمدگی کے ساتھ درود شریف پڑھا جاوے۔اور آنحضرت میر کی محبت کی بنا پر اور آپ کے احسانات کو اپنی آنکھوں کے سامنے لا لا کر اور انہیں گن گن کر ” جب انسان کی دعا محض دنیاوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوہ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب اور انکسار تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے " (ایضاً) پڑھا جائے۔اور اس بات کی تصدیق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام درود شریف کو دعا کا اصل اور اہم حصہ بنانے کی تاکید کے ارشادات سے بھی ہوتی ہے جن میں کثرت سے آنحضرت پر درود بھیجنے کی بھی تاکید پائی جاتی ہے (دیکھو صفحہ ۱۱۶۹ ۱۸۰۹۱۷۷، ۱۹۷۹۹۴) (۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لیکن اس سے کہیں بڑھ کر اس بات کی ان میں تاکید کی گئی ہے کہ درود رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْعَلُونِي كَقَدْحٍ شریف نہایت عمدگی سے آنحضرت امی کے احسانات کو یاد کر کے آپ الرَّاكِبِ إِنَّ الرَّاكِبُ يَمُلأُ قَدْحَهُ فَإِذَا فَرَغَ وَعَلَّقَ مَعَالِيقَةً کی کامل محبت کی بنا پر اور حقیقی دلسوزی کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔اور اس سے فَإِن كَانَ فِيهِ مَاءٍ شَرِبَ حَاجَتَهُ أَوِ الْوِضُوْهُ تَوَضَّاءُ وَ إِلَّا أَعْرَاقَ مقصود کوئی دنیوی مقصد یا اپنا ذاتی فائدہ نہ ہونا چاہئے (دیکھو صفحات ۱۶۴ الْقَدْحَ فَاجْعَلُونِي فِي أَوَّلِ الدُّعَاءِ وَفِي وَسَطِهِ وَلَا