رسالہ درود شریف — Page 111
رساله درود شریف ٢٠٢ الْمَلَئِكَةُ مَا صَلَّى فَلْيَقِلَ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ أَوِ لَيُكْثِرُ۔ترجمہ۔حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت امام نے فرمایا ہے جو مسلم مجھ پر درود بھیجے گا۔وہ جب تک مجھے پر درود بھیجتا رہے گا اس وقت تک فرشتے اس پر درود بھیجتے رہیں گے۔اب چاہے تو اس میں کمی رکھے اور چاہے تو اسے زیادہ کرے علی علیدو ۲۰۳ رساله درود شریف بار درود بھیجے گا اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس پر دس بار درود بھیجے گا۔اور اسے دس درجے بلندی اور رفعت بخشے گا۔اور اس کی دس نیکیاں شمار کرے گا۔اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔درود شریف کے یہ برکات متعدد احادیث سے ثابت ہیں اور اس حدیث میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ برکات دلی اخلاص سے درود بھیجنے کے اور جس طرح درود شریف کے مقابل پر قرآن کریم میں ایڈا کو رکھا گیا ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اس کے بغیر جو درود بھیجا جائے، وہ محض رسم اور ہے اسی طرح مذکورہ بالا حدیث میں بھی اسے صلوۃ کے مقابل پر رکھا گیا ہے عادت کے طور پر ہو گا۔اور چونکہ دلی اخلاص کا پیدا ہونا آپ کے حالات والا اور یہ تمام امور درود شریف کی اہمیت کو ثابت کر کے اس کی ادائیگی میں ان صفات، آپ کے احسانات اور آپ کی قربانیوں کے جاننے سے تعلق رکھتا آداب کو ملحوظ رکھنے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جو نماز سے تعلق رکھتے ہے۔اس لئے جو شخص آپ پر حقیقی طور پر درود بھیجنا چاہتا ہو اس کے لئے ہیں۔پس جس طرح نماز کے لئے اقامت یعنی اسے کماحقہ ادا کرنا ضروری ہے۔اور غافلانہ نماز بموجب آیت فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ الَّذِينَ هُم عَنْ صَلوتِهِمْ سَاهُونَ قابل پذیرائی نہیں ہوتی۔بلکہ موجب وبال ہوتی ہے اسی طرح درود کے لئے بھی ضروری ہے کہ اسے حضور دل سے پڑھا جائے۔ورنہ وہ محض رسم و عادت میں داخل ہو گا۔نهایت ضروری ہے کہ وہ آپ کے تفصیلی حالات اور سیرت مقدسہ کو اپنے مطالعہ میں رکھے اور اسے نظر کے سامنے رکھ کر اس پر غور کرتا رہے۔وما التوفيق الا بالله نوٹ۔درود کے لئے جس دلسوزی کی طرف ان احادیث میں توجہ دلائی گئی ہے اس کی طرف خود لفظ صلوۃ بھی رہنمائی کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسے ہی گدازش دعا میں ہونی چاہئے جب ایسی حالت کو پہنچ جائے۔جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔(بدر جلد ۴ پرچہ ۲۵ مئی ۱۹۰۵ء) (٣٥) عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔الله صلى الله ANGEL وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى مِنْ أُمَّتِي صَلوةٌ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَدَ رَجَاتٍ وَ كَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَحَسَنَاتٍ وَمَحْى عَنْهُ عَشْرَسَيِّئَاتٍ (جلاء الافهام بحوالہ سنن نسائی) حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت سلم نے فرمایا ہے جو شخص مجھ پر دلی اخلاص سے عمدگی کے ساتھ (ایک