رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 113 of 169

رسالہ درود شریف — Page 113

رساله درود شریف تَجْعَلُونِي فِي أَخِرم (جلاء الافهام بحوالہ احمد بن عمرو بن ابی عاصم) ترجمہ۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت وسلم نے فرمایا میرے لئے ایسے طور پر دعا نہ کیا کرو جیسے کوئی سوار مسافر راستے میں پانی کے لئے اتر کر اور اپنے سامان سفر میں سے پیالہ نکال کر اپنا پیالہ پانی سے بھر لے۔اور جب اس کام سے فارغ ہو کر اپنا سامان پھر لادنے ۲۰۷ رساله درود شریف بھی دعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیاوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتی ہیں خاص کر خامی اور سچ پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں“ (بدر جلد ۴ پرچه ۲۵ مئی ۱۹۰۵ء) اصل بات یہ ہے کہ درود شریف آنحضرت مس کے احسانات کے لگے۔اور جتنا پینا تھا پی چکے یا وضو وغیرہ کر چکے تو اس پیالہ کو سامان میں شکر نعمت کی ایک صورت اور آپ کے درجات کی بلندی اور آپ کے باندھنے کی غرض سے باقی بچے ہوئے پانی کو گرا دیتا ہے (یا کسی کو دے دیتا ہے) مقاصد کے پورا ہونے کی دعا ہے۔پس اس مقصد کے سوا کسی اور مقصد کے بلکہ دعا کے شروع میں بھی مجھ پر درود بھیجو اور اس کے وسط میں بھی اور لئے جو ہماری زندگی کی اصل غایت سے بھی دور لے جانے والا ہو اسے پڑھنا اسے پیچھے مت رکھو۔ایسا ہی ہو گا جیسا کہ قرآن کریم کو ہدایت یابی کے لئے نہیں جس کے لئے وہ اور طبرانی کی روایت میں اس حدیث کے آخری الفاظ وَلاً اتارا گیا ہے بلکہ کسی ادنی اور ذلیل مقصد کے لئے یا جنتر منتر وغیرہ کے طور پر تَجْعَلُونِي فِي آخِرم کی بجائے وفی اخرہ آتا ہے۔یعنی دعا کے آخر پڑھا جائے۔یا جیسے نماز کے اصل مقصد کو چھوڑ کر کسی ذلیل مقصد کے لئے میں بھی مجھ پر درود بھیجو۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دعا میں درود کو طفیلی نماز پڑھی جاوے۔پس اپنی ضرورتوں اور تکلیفوں کے موقع پر درود اس نہیں بنانا چاہئے۔بلکہ اصل حصہ دعا کا درود ہونا چاہئے اور باقی مطالب کے طور پر پڑھنا چاہئے کہ اپنے ذاتی اغراض کو آنحضرت میم کے مقاصد پر فدا لئے جو دعائیں کرنی ہوں۔انہیں طفیلی بنانا چاہئے۔اور قربان کر کے آنحضرت ام کی کامیابیوں کے لئے اور آپ کے دین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے کے خادموں کے لئے اور آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کے لئے دعائیں اور دعا کا حقیقی مقصد بتاتے ہوئے فرماتے ہیں۔اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہناتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضا الہی کو حاصل کرے اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے کی جائیں اور آنحضرت مال کے مقاصد کو سامنے رکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے۔اور جب دل پورے انشراح کے ساتھ فتوی دے۔کہ اپنے ذاتی اغراض کبھی آ نحضر ت ل لا لا لا ل کے مقاصد میں سے ہی ہیں۔تو لعمال العالم اس کے بعد ان مقاصد کے پورا ہونے کے لئے بھی دعائیں کی جائیں۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس دعا کرنے والے شخص کی ذاتی ضرورتیں بھی جو حقیقی ہونگی پوری کر دے گا۔اور اس کی تمام تکالیف اور مشکلات دور ہو