عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 11

کرنے کے لئے کوئی درخواست ہے تو وقت پر ضرورت پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس ضرورتمند کو نقصان ہو جاتا ہے یا تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔بعض عہدیداران اپنی مصروفیت کا بھی عذر پیش کر دیتے ہیں۔بعض کے پاس کوئی عذر نہیں ہوتا صرف عدم تو جنگی ہوتی ہے۔اگر ان کے اپنے معاملے ہوں یا کسی قریبی کے معاملے ہوں تو ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔پس حقیقی خدمت کا جذبہ، قربانی کا جذبہ، اپنی امانت کا صحیح حق ادا کرنا تو یہ ہے کہ ایک فکر کے ساتھ دوسرے کے کام آیا جائے اور جب یہ قربانی کا مادہ ہو اور دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر کام کیا جائے گا تو جماعت کے افراد کا بھی معیار قربانی بڑھے گا۔ایک دوسرے کے حق مارنے کی بجائے حق دینے کی طرف توجہ ہو گی۔ہم غیروں کے سامنے تو یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں امن تب قائم ہو سکتا ہے جب ہر سطح پر حق لینے اور حق غصب کرنے کی بجائے حق دینے اور قربانی کا جذبہ پیدا ہولیکن ہمارے اندر اگر یہ معیار نہیں تو ہم ایک ایسا کام کر رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے۔پھر ایک وصف جو خاص طور پر عہدیداروں کے اندر ہونا چاہئے وہ عاجزی ہے۔اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا۔(الفرقان: 64) کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔پس اس کی بھی اعلیٰ مثال ہمارے عہد یداروں میں ہونی چاہئے۔جتنا بڑا کسی کے پاس عہدہ ہے اتنی ہی زیادہ اسے خدمت کے جذبے سے لوگوں کے ملنے کے لحاظ سے عاجزی دکھانی چاہئے اور یہی بڑا پن ہے۔لوگ دیکھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں کہ عہدیداروں کے رویے کیا ہیں۔بعض دفعہ لوگ مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ فلاں عہدیدار کا رویہ ایسا تھا لیکن آج مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اس عہدیدار نے 12