عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 10
عاجزی کی حالت ان کی کس حد تک ہے۔بعض دفعہ ایسے عہدیداران کے معاملات بھی سامنے آ جاتے ہیں جن میں برداشت بالکل بھی نہیں ہوتی اور اگر کوئی دوسرا بد تمیزی کر رہا ہے تو یہ بھی تو تکار شروع کر دیتے ہیں۔اگر کوئی عام شخص بدتمیز ہے تو اس سے اسے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کے اخلاق تو یہی کہیں گے بڑا بد اخلاق ہے۔اس کے اخلاق گرے ہوئے ہیں۔لیکن جب عہد یدار کے منہ سے غلط الفاظ لوگوں کے سامنے نکلتے ہیں تو عہد یدار کی اپنی عزت اور وقار پر حرف آتا ہے اور ساتھ ہی جماعت کے افراد پر بھی اثر پڑتا ہے۔جماعت کا جو معیار ہونا چاہئے اور جس معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں اس میں اگر کہیں بھی ایک بھی ایسی مثال ہو جائے تو جماعت کی بدنامی کا موجب بنتی ہے اور بن سکتی ہے اور یہ مثالیں بعض جگہوں پر ملتی ہیں۔مسجدوں میں بھی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ باتیں بچوں اور نو جوانوں پر انتہائی برا اثر ڈالتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے اور قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے کس طرح ذکر فرمایا ہے۔ایک جگہ فرمایا کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الحشر: 10) کہ مومن جو ہیں اپنے دینی بھائیوں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں۔یہ مثال انصار نے مہاجرین کے لئے قائم کی۔اور یہی ایک نمونہ ہے ہمارے لئے۔یہ نفسوں کو ترجیح دینا تو بڑی دُور کی بات ہے اور بڑی بات ہے، بعض دفعہ تو کسی کا جو حق ہے وہ بھی پوری طرح ادا نہیں کیا جاتا۔لوگوں کے بعض معاملات عہدیداروں کے پاس یا مرکز میں رپورٹ بھیجوانے کے لئے آتے ہیں یا مرکز سے رپورٹ بھیجوانے کے لئے بعض معاملات بھیجے جاتے ہیں تو بڑی بے احتیاطی سے معاملے کی رپورٹ دی جاتی ہے۔صحیح رنگ میں تحقیق نہیں کی جاتی اور رپورٹ بھجوائی جاتی ہے یا معاملے کو اتنا لٹکا دیا جاتا ہے کہ اگر کسی ضرورتمند کی ضرورت پوری 11