عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 23

عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 12

مجھے نہ صرف سلام کیا بلکہ میرا حال بھی پوچھا اور بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا اور اس کے رویے کو دیکھ کر خوشی ہوئی اور اس سے اس عہد یدار کا بڑا پن ظاہر ہوا۔پس اکثریت افراد جماعت کی تو ایسی ہے کہ وہ عہد یداروں کے پیار، نرمی اور شفقت کے سلوک سے ہی خوش ہو کر ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اگر کسی عہد یدار کے دل میں اپنے عہدے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی بڑائی پیدا ہوتی ہے یا تکبر پیدا ہوتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہے اور جب خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے تو پھر کام میں برکت نہیں رہتی۔اور دین کا کام تو ہے ہی خالصہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور جب خدا تعالیٰ کی رضا ہی نہیں رہی تو پھر ایسا شخص جماعت کے لئے بجائے فائدے کے نقصان کا موجب بن جاتا ہے۔پس ہمیشہ عہد یداروں کو خاص طور پر اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ان میں عاجزی ہے یا نہیں۔اور ہے تو کس حد تک ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا زیادہ کوئی عاجزی اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتناہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔(صحيح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب استحباب العفو والتواضع حديث 6487) پس ہر عہد یدار کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کو اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع دیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اس احسان کی شکر گزاری اس میں مزید عاجزی اور انکساری کا پیدا ہونا ہے۔اگر یہ عاجزی اور انکساری مزید پیدا نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے احسان کا شکر ادا نہیں ہوتا۔بسا اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ عام حالات میں اگر ملیں تو بڑی 13