رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 28 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 28

28 ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ ﷺ کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔“ ملفوظات جلد دوم صفحه 52 یہی اصولی تعلیم ہے جو ہر احمدی مرد اور عورت کے لئے قابل عمل ہونی چاہئے کہ ہم ہر کام سے پہلے اس پر غور کریں کہ آیا یہ قرآن کی تعلیم کے خلاف تو نہیں۔آنحضرت کے کسی قول یا سنت کے خلاف تو نہیں اور پھر امام الزمان کے فتویٰ اور ارشاد کے خلاف تو نہیں۔اگر اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری زندگیاں بسر ہوں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل کے ہم امید وار ہو سکتے ہیں۔شادی بیاہ سے متعلق رسومات :۔دوسری قسم کی وہ رسومات ہیں جو مذہب کے ساتھ تو منسوب نہیں کی جاتیں مگر ہماری روایت میں وہ اس طرح مل گئیں ہیں کہ ان سے بظاہر پیچھا چھٹنا مشکل نظر آتا ہے لیکن ہیں وہ صریحا قرآنی تعلیم کے خلاف یہ وہ رسومات ہیں جو عموماً نکاح شادی اور منگنی وغیرہ کے موقع پر کی جاتی ہیں۔شادی کے موقع پر خوشی منانا اچھی بات ہے خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن قرآنی تعلیم ایسے موقعوں کے لئے یہ ہے کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا - (اعراف : 32) اسراف نہ کرو۔اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔