رسومات کے متعلق تعلیم — Page 29
29 اسلام سادگی سکھاتا ہے تکلف اور تصنع کو نا پسند فرماتا ہے لیکن ہمارے ہاں شادیوں میں بھاری چیزوں کے مطالبہ جات کئے جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی نے بہت دفعہ نکاح پڑھاتے وقت جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ مطالبات نہ کریں۔7 مارچ 1931 ء کو نکاح کا خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا:۔اس امر کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ رسمیں خواہ کسی رنگ میں ہوں بُری ہوتی ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے اگر بعض رسمیں مٹائی ہیں تو دوسری شکل میں بعض اختیار کر لی ہیں۔نکاحوں کے موقعوں پر پہلے تو گھروں میں فیصلہ کر لیا جاتا تھا کہ اتنے زیور اور کپڑے لئے جائیں گے۔پھر آہستہ آہستہ ایسی شرائط تحریروں میں آنے لگیں۔پھر میرے سامنے بھی پیش ہونے لگیں۔شریعت نے صرف مہر مقرر کیا ہے اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ہونا بے حیائی ہے اور لڑکی بیچنے کے سوا اس کے اور کوئی معنے میری سمجھ میں نہیں آئے۔میں آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ اگر مجھے علم ہو گیا کہ کسی نکاح کے لئے زیور اور کپڑے کی شرائط لگائی گئیں ہیں یا لڑکی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا۔الفضل 7 اپریل 1931ء ) ہمارے ملک میں سسرال والوں کو جوڑے اور زیور دینے کی منحوس رسم پڑ چکی ہے جس کی وجہ سے احمدی گھرانوں میں رشتوں میں