رسومات کے متعلق تعلیم — Page 4
4 رسول کریم ﷺ کی بعثت کی غرض :- :۔آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بیان فرمائی ہے کہ آپ نوع انسانی کو ان قسما قسم کے پھندوں سے آزاد کروائیں۔جن کے طوق انسانوں نے خود پہن رکھے تھے اور ان کی روح کو پاک وصاف کر کے ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔مذہب کا مرکزی نقطہ توحید ہے یعنی انسان کی پوری توجہ اس کی عبادت اس کے بندوں سے تعلقات۔رشتہ داریوں کا نبھانا۔مرنا جینا سب اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو جب انسان تو حید کے اس مقام سے جہاں اس کے لئے قائم ہونا ضروری ہے ذرا بھی ادھر ادھر ہٹتا ہے تو پہلے مختلف رسومات میں گرفتار ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ ان کے جال میں ایسا پھنستا ہے کہ شرک کرنے پر اتر آتا ہے۔گویا شرک لازمی نتیجہ ہے۔رسومات کی پیروی کا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيُّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْههُم۔الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (سورة الاعراف: 158) عَنِ