رسومات کے متعلق تعلیم — Page 5
5 ترجمہ:۔وہ (لوگ) جو ہمارے اس رسول ( یعنی محمد رسول اللہ ﷺ) کی اتباع کرتے ہیں جو نبی ہے اور امی ہے جس کا ذکر تو رات اور انجیل میں ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہے وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بُری باتوں سے روکتا ہے اور سب پاک چیزیں ان پر حلال کرتا ہے اور سب بُری چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے بوجھ (جوان پر لا دے ہوئے تھے ) اور طوق جو ان کے گلوں میں ڈالے ہوئے تھے وہ ان سے دور کرتا ہے۔پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اس کو طاقت پہنچائی اور اس کو مدد دی اور اس نور کے پیچھے چل پڑے جو اس کے ساتھ اتارا گیا تھا وہی لوگ با مراد ہوں گے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہر کام میں یہ مد نظر رکھے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع کر رہا ہے یا نہیں۔آپ کی اتباع سے ہی وہ نیک کام کر سکے گا۔پاک چیزوں اور پاک باتوں کو اختیار کر سکے گا۔اور بُرے کاموں سے مجتنب رہے گا۔یہی تقویٰ کا حقیقی مقام ہے جو آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت اور پیروی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔آنحضرت ﷺ کے طریق پر چلنا سنت ہے اور اس کو چھوڑ کر کوئی اور طریق اختیار کرنا بدعت۔سنت اور بدعت میں فرق:۔حضرت اقدس موعود امام آخر الزمان سنت اور بدعت کا فرق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: