رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 24 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 24

24 طریق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی کامل فرمانبرداری کی جائے۔وظیفہ کے متعلق کسی کے سوال کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔وظیفوں کے ہم قائل نہیں۔یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جوگی ہند وسنیاسی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں۔البتہ دعا کرنی چاہئے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو سچے اضطراب اور کچی تڑپ سے جناب الہی میں گداز ہوا ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 323 ﴾ 66 پھر حضور فرماتے ہیں:۔بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات و اکرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل وکرم سے ہی ہوتے ہیں۔پیروں ، فقیروں ،صوفیوں، گدی نشینوں کے خود تراشیدہ وظائف طریق ، رسومات فضول بدعات ہیں جو ہرگز ہرگز ماننے کے قابل نہیں انسان کو چاہئے کہ سب کچھ خدا تعالیٰ سے طلب کرے۔“ ملفوظات جلد سوم صفحه 322 قاضی ظہور الدین صاحب اکمل مرحوم نے سوال کیا کہ محرم کی دسویں کو جو شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ اللہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ حضور نے فرمایا:۔ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم و بدعت