رسومات کے متعلق تعلیم — Page 23
23 یہ کفر ہے۔“ ملفوظات جلد سوم صفحہ 158 ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملازم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیر کا ختم دلواؤں گا۔اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں۔فرمایا کہ:۔خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جیسے چاہے انسان دے مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ ؟ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم جاری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھا کرتے ہیں یہ طریق تو شرک ہے اور اس کا ثبوت آنحضرت ﷺ کے فعل سے نہیں غرباء ومساکین کو بے شک کھانا کھلاؤ ملفوظات جلد سوم صفحہ 180 غرض اس قسم کی اور بھی بہت سی بدعات ہیں جو مذہب کے نام پر لوگوں نے مذہب میں داخل کر کے مذہب کا حصہ قرار دے دی ہیں لیکن تیرہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں ان کا نام ونشان بھی نہیں ملتا کہ کبھی مسلمانوں نے ان پر عمل کیا ہو۔مسلمان جب مذہب سے دور جا پڑے تو ان کی گمراہی کو دور کرنے اور صحیح راستے پر چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موعود آخرالزمان کو مبعوث فرمایا۔آپ نے پھر سے محمدی شریعت کا قیام فرمایا اور دنیا کو یہ تعلیم دی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہی انسان کی زندگی کا مقصد اور نصب العین ہے اور اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک ہی