راہ ھدیٰ — Page 74
۷۴ نبوت آشنا قلب کی ضرورت تھی جو فی الجملہ خاتمیت کی شان بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔تاکہ خاتم مطلق کے کمالات کا عکس اس میں اتر سکے۔اور ساتھ ہی اس خاتم مطلق کی ختم نبوت میں فرق بھی نہ آئے۔اس کی صورت بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کو جو ایک حد تک خاتمیت کی شان رکھتا ہو اس امت میں مجدد کی حیثیت سے لایا جائے جو طاقت تو نبوت کی لئے ہوئے ہو مگر اپنی نبوت کا منصب تبلیغ اور مرتبہ تشریع لئے ہوئے نہ ہو۔بلکہ ایک امتی کی حیثیت سے اس امت میں کام کرے۔اور خاتم النبیین کے کمالات کو اپنے واسطے سے استعمال میں لائے۔" تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام صفحه ۲۲۸ صفحه ۲۲۹ از قاری محمد طیب مهتمم دارالعلوم دیوبند پاکستانی ایڈیشن اول مطبوعہ مئی ۱۹۸۶ء شائع کردہ نفیس اکیڈمی کراچی) ۳-۲- دوسرا اور تیسرا شعر لدھیانوی صاحب نے یہ پیش کیا ہے :- آنچه داد است هرنی را جام داد آن جام را مرا به تمام کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین ان اشعار میں بھی انبیاء سے افضلیت کا کوئی دعوئی نہیں کیا گیا بلکہ یہاں پر بھی وہی مضمون بیان کرنا مقصود ہے کہ عرفان الہی اور یقین کا جو جام ہر نبی کو دیا گیا تھا وہی جام خدا تعالیٰ نے مجھے بھی پورے کا پورا دے دیا ہے اور خدا کی ہستی پر یقین اور ایمان کے لحاظ سے میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں کیونکہ نبی ہوتا ہی وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ کامل یقین اور عرفان عطا فرمائے جو انسان یقین اور عرفان میں کامل نہ ہو وہ نبی ہو ہی نہیں سکتا اسی لئے آپ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہر نبی کو یقین کامل دیا گیا مجھے بھی اسی طرح یقین کامل دیا گیا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ پہلے انبیاء کو تو کامل یقین دیا گیا تھا لیکن مجھے کامل یقین نہیں دیا گیا وہ جھوٹا ہے۔لدھیانوی صاحب نے چوتھا شعر یہ پیش کیا ہے۔منم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد و احمد که مجتبی باشد اس شعر میں بھی انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ میں علی اور بروزی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی