راہ ھدیٰ — Page 75
۷۵ اللہ علیہ وسلم کا مظہر بن کر آیا ہوں اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا۔" عرش کیا ہے فرمایا میں ہوں پوچھا کرسی کیا ہے فرمایا میں ہوں پوچھا لوح و قلم کیا ہے فرمایا میں ہوں پوچھا کہتے ہیں ابراہیم موسیٰ اور محمد صلعم اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں فرمایا میں ہوں" ( تذکرۃ الاولیاء اردو باب ۱۴ صفحه ۱۲۸ شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز) اگر مذکورہ بالا شعر کی بناء پر حضرت بانی جماعت احمدیہ پر تمام رسولوں سے افضل ہونے کے دعوئی کا الزام درست ہے تو لدھیانوی صاحب حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ پر کیا فتویٰ لگائیں گے ؟ حضرت مولانا شاہ نیاز احمد دہلوی نے تمام نبیوں کا بروز ہونے کا دعویٰ کیا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔ہوں۔شد بود آدم و شیت و نوح و هود غیر صاحب ہر عصر متم من نه منم نه من منم عیسی مریمی منم احمد ہاشمی منم حیدر شیر نه منم من نه منم نه من منم یعنی آدم ، شیث ، نوح، ہود ، عیسی مریمی ، احمد ہاشمی حیدر شیر خدا بلکہ ہر صاحب عصر میں دیوان نیاز صفحه ۲۲ مطبوعہ ۱۲۹۰ ه ) کیا لدھیانوی صاحب حضرت مولانا شاہ نیاز احمد صاحب دہلوی پر بھی وہی فتویٰ لگانے کو تیار ہیں جو مرزا صاحب پر اس شعر کی بناء پر لگاتے ہیں ؟ لدھیانوی صاحب نے پانچواں شعریہ پیش کیا ہے کہ زنده شد هر نبی باآمدنم ہر رسولے نہاں یہ پیراهنم اس شعر میں بھی انبیاء سے افضلیت کا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یقینی کلام حاصل کرنے کے لحاظ سے اور ہر نبی کی کسی خاص صفت کا مظہر ہونے کے لحاظت میری آمد پر