راہ ھدیٰ — Page 73
کمال کی بلندی میں کامل اعتدال رکھتا ہے۔" انسان کامل ( اردو ) باب نمبر 1 مہدی علیہ السلام کا ذکر صفحہ ۳۷۵ نفیس اکیڈمی کراچی) پھر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔حضرت آدم سے لے کر خاتم الولایت امام مہدی تک حضور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم بارز ہیں۔پہلی بار آپ نے حضرت آدم علیہ السلام میں بروز کیا ہے۔۔۔۔۔اس کے بعد دوسرے مشائخ عظام میں نوبت بنوبت بروز کیا ہے۔اور کرتے رہیں گے۔حتی کہ امام مہدی میں بروز فرمائیں گے۔پس حضرت آدم سے امام مهدی تک جتنے انبیاء اور اولیاء قطب عدار ہوئے تمام روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مظاہر ہیں۔" " مقابیس المجالس المعروف بہ اشارات فریدی حصہ دوم صفحه ۱۳۴۱ قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں :- مؤلفه رکن الدین مطبوعه مفید عام پریس اگست ۶۱۳۲۱ ) لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جب خاتم الدجالین کا اصلی مقابلہ تو خاتم البنین سے ہے۔مگر اس مقابلہ کے لئے نہ حضور کا دنیا میں دوبارہ تشریف لانا مناسب نہ صدیوں باقی رکھا جانا شایان شان نہ زمانہ نبوی میں مقابلہ ختم کرا دیا جانا مصلحت اور ادھر ختم دجالیت کے استیصال کے لئے چھوٹی موٹی روحانیت تو کیا بڑی سے بڑی ولایت بھی کافی نہ تھی۔عام مجددین اور ارباب دلایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ برآنہ ہو سکتے تھے۔جب تک کہ نبوت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔بلکہ محض نبوت کی قوت بھی اس وقت تک موثر نہ تھی جب تک کہ اس کے ساتھ ختم نبوت کا پاور شامل نہ ہو۔تو پھر شکست دجالیت کی صورت بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی۔کہ اس دقبالِ اعظم کو نیست و نابود کرنے کے لئے امت میں ایک ایسا خاتم المجددین آئے جو خاتم النبیین کی غیر معمولی قوت کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہو۔اور ساتھ ہی خاتم النبین سے ایسی مناسبت تامہ رکھتا ہو کہ اس کا مقابلہ بعینہ خاتم النبین کا مقابلہ ہو مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کی روحانیت کا انجذاب اس مجدد کا قلب کر سکتا تھا جو خود بھی نبوت آشنا ہو محض مرتبہ ولایت میں یہ محتمل کہاں کہ وہ درجہ نبوت بھی برداشت کر سکے۔چہ جائیکہ ختم نبوت کا کوئی انعکاس اپنے اندر اتار سکے۔نہیں بلکہ اس انعکاس کیلئے ایک ایسے