راہ ھدیٰ — Page 37
۳۷ " بهر حال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو حضور سے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلاق خاتمیت اور مقام خاتمیت میں بھی مخصوص مشابہت و مناسبت دی گئی جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوی کو بارگاہ محمدی سے خلقاً و خُلقاً رتباً و مقاماً ایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے " تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام صفحه ۱۲۹ از قاری محمد طیب مہتم دار العلوم دیوبند پاکستان ایڈیشن اول مطبوعه مئی ۱۹۸۶ء ) لدھیانوی صاحب نے اس شق میں اس اعتراض کو دہرایا ہے کہ جماعت احمدیہ صرف تیرھویں صدی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و منصب اور آپ کے کمالات کی قائل ہے اور تیرھویں صدی کے بعد وہ کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھن کر مسیح موعود کو مل جانے کا عقیدہ رکھتی ہے۔معزز قار یکن ! ہم اس کے جواب میں لعنة اللہ علی الکاذبین کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں۔چنانچہ اس جواب کے بعد ہم ایک دفعہ پھر جناب یوسف لدھیانوی سے گذارش کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے عقیدے جماعت احمدیہ پر چھوڑ دیں اپنی طرف سے عقیدے افتراء کر کے ان کی طرف منسوب کرنے کی جہالت سے باز آئیں۔آپ نے جب یہ لکھا کہ " تیرھویں صدی کے بعد وہ کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھین کر مسیح موعود کو مل جانے کا عقیدہ رکھتی ہے تو اپنی صفائی میں قرآن کریم کی زبان میں ہمارے دل سے بے اختیار لعنۃ اللہ على الكاذبين لكلا اور ساتھ ہی جماعت احمدیہ کے اصل عقیدہ کے طور پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس تحریر کی طرف ذہن منتقل ہو گیا اور دل و زبان پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے درود جاری ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں۔وو۔۔۔۔۔وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فر نعمت ہونگے