راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 36 of 198

راہ ھدیٰ — Page 36

بار بار ہم فصل اول کے حوالے نہیں دے سکتے قارئین کے ذہن میں فصل اول مستحفر ہو گی وہی ان کے اعتراض کو باطل اور لغو قرار دینے کے لئے کافی ہے لیکن مولوی صاحب خود ہی مفروضے بنا بنا کر بار بار وہی حملے کر رہے ہیں ان کی مثال تو اس جادوگر کی سی ہے جو موم کی پتلی بینا کر اسے سوئیاں چھوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جس کی پہلی ہے اسے تکلیف پہنچے گی۔ہم الٹ کر ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسی نازل ہوں گے تو غلام کی حیثیت سے ہوں گے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند پر قابض ہو جائیں گے کیا امام مہدی کا مقام علماء و بزرگان امت کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ وہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔اگر ہے تو پھر کیا آپ کے نزدیک ان کا یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسند سے ہٹا کر خود فائز ہو جائیں گے۔مولوی صاحب ! ایسی جاہلانہ باتیں ان کی طرف منسوب کرنا آپ ہی کو زیب دیتا ہے لہذا پہلے آپ اپنے مسلمہ علماء اور اولیاء سے قضیہ طے کر لیں پھر ہم سے گفتگو فرمائیں۔ضمناً یاد آیا کہ علماء و اولیاء امت پر یلغار سے جب فارغ ہوں تو احمدیت کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے اپنے بزرگ مولانا قاری محمد طیب صاحب سے نمٹنے کے بعد ہماری طرف رخ فرمائیے آپ کی یادداشت تازہ کرنے کے لئے حسب ذیل اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں۔اہم اور اعظم امور میں اگر حضور کی ذات اقدس سے کسی کو کمال اشتراک و تناسب ثابت ہوتا ہے تو حضرت عیسیٰ کی ذات مقدس کو شاید اسی بنا پر جبکہ حضور نے نجات ابدی کو اپنی نبوت ماننے پر معلق فرمایا ہے تو باوجودیکہ اور تمام انبیاء علیهم السلام کی نبوت ماننا بھی جزو ایمان تھا لیکن خصوصیت سے اپنے ساتھ صرف عیسی علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے کو متوازی طریق پر ذکر فرمایا ہے" تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام صفحه ۱۴۱ از قاری محمد طیب مہتم دارالعلوم دیوبند پاکستانی ایڈیشن اول مئی ۱۹۸۶ء نفیس اکیڈیمی کراچی) پھر فرماتے ہیں :۔