راہ ھدیٰ — Page 34
۳۴ نہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار دفعہ الٹ کر پڑتا ہے پہلے یہ تو بتائیں کہ انہیں کے الفاظ میں اگر کوئی شخص یہ سب کچھ کرے اور ان کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مزعومہ دوسری بعثت کا انکار کر دے یا یہ سب کچھ کرے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کسی ایک کا انکار کر دے تو پھر ان کا کیا فتویٰ ہوگا ؟ یہ محض لفظی چالاکیاں ہیں جن کا نہ تقویٰ سے کوئی تعلق ہے نہ عقل سے، صرف عوام الناس کو شرارت پر اکسانے کے چٹکلے ہیں۔ہم ایک دفعہ پھر معزز قارئین سے گذارش کرتے ہیں کہ مولوی یوسف لدھیانوی صاحب کے سب اعتراضات پڑھ کر اس کتاب کی فصل اول کا مطالعہ کر لیں تو ان کے تمام اعتراضات باطل ہو جاتے ہیں یا ان تمام بزرگان امت پر زیادہ سختی سے وارد ہو جاتے ہیں جن کو لدھیانوی صاحب بزرگ ماننے پر مجبور ہیں۔در حقیقت مولوی صاحب نے خود یہ نیا شاخسانہ کھڑا کیا ہے اس کا حقیقی جواب یہ ہے کہ جو شخص بھی قرآن شریف اور سنت پر سختی سے اور دل و جان سے عمل پیرا ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے موعود زمانہ کا انکار کر دے سوائے اس کے کہ نادانی سے ایسا کرے یا اسے پیغام ہی نہ پہنچا ہو اس صورت میں اس کا فیصلہ خدا تعالی فرمائے گا۔باقی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی گویا اس نے میری نافرمانی کی۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے۔" جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے خود میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے حقیقت میں خود میری ہی نافرمانی کی ( بخاری کتاب الاحکام باسب قول الله تعالی اطیعوا الله و المعو الرسول و اولی الامر منكم) اس ارشاد کی روشنی میں یہ بات قطعی ہے کہ جو بھی امام مہدی کا نافرمان ہو گا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہو گا۔اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہو گا اس کے متعلق یہ کہنا کہ قرآن و سنت پر ظاہری عمل کی وجہ سے نجات یافتہ کہلائے گا یہ ایک مردود تصور ہے تہاں دلوں کا حال خدا تعالی جانتا ہے۔البتہ اگر کوئی نا کبھی میں غلطی کرتا ہے تو خدا تعالٰی