راہ ھدیٰ — Page 17
ہوئے فرماتے ہیں :- اما الحقيقي فعلى ضرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔و تارة اخرى بان تشتبك بحقيقة رجل من اله او المتوسلين اليه كما وقع لنبينا بالنسبة الى ظهور المهدی ) تقسیمات الليه جزو ثانی تقسیم نمبر ۲۲۸ صفحه ۹۸ ، مطبوعہ مدینہ برقی پریس - بجنور ۱۹۳۶ء) یعنی حقیقی بروز کی کئی اقسام ہیں۔۔۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کی حقیقت میں اس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہدی سے تعلق میں اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہوگی۔یعنی مهدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی بروز ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب الخیرا لکثیر میں فرماتے ہیں۔حق له ان ينعكس فيد انوار سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ويزعم العامة انه اذا نزل الى الارض كان واحدا من الامة كلا بل هو شرح للاسم الجامع المحمدي و نسخة منتسخة منه فشتان بينه و بين احد من الامة الخير الكثير صفحه ۷۲ مطبوعه بجنور) یعنی امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کا حق یہ ہے کہ اس میں سید المرسلین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا انعکاس ہو۔عوام کا خیال ہے کہ مسیح جب زمین کی طرف نازل ہو گا تو وہ صرف ایک امتی ہو گا۔ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا اور اسی کا دوسرا نسخہ ہو گا پس اس میں اور ایک عام امتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے آنے والے مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا پورا عکس اور آپ کا کامل ظل و بروز قرار دیا ہے۔(۲) حضرت امام عبد الرزاق قاشانی رحمتہ اللہ علیہ کی شرح فصوص الحکم میں لکھا ہے۔" المهدي الذي يجيني في اخر الزمان فانه يكون في الاحكام الشرعية تابعا لمحمد صلی اللہ علیہ و سلم وفي المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الانبياء والأولياء تابعين له كلهم۔۔۔۔۔لان باطن، باطن محمد صلی اللہ علیہ و سلم ( شرح فصوص الحکم مطبوعہ مصر صفحه ۵۲)