راہ ھدیٰ — Page 16
۱۶ " بزرگان امت کی نظر میں مہدی معہود اور مسیح موعود کا مقام " لدھیانوی صاحب اعتراض کرتے ہیں کہ تیرہ سو سال میں امت محمدیہ میں سے کوئی شخص بھی اس بات کا قائل نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ ہو گی اور کوئی شخص آپ کا ظل اور بروز بن کر آئے گا۔بزرگان امت کے بعض ایسے اقوال ہم ذیل میں درج کرتے ہیں جن میں امت محمدیہ میں آنے والے مہدی معہود اور مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت کا مظہر اور آپ کا ظل اور بروز قرار دیا گیا ہے۔ان تحریرات سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ مولوی صاحب بزرگان امت کے ان عقائد اور تعلیمات سے آشنا ہی نہیں تو پھر ان کو مذہبی امور میں ایسے دعوے کرنے کا کوئی حق نہیں یا پھر ان سب باتوں کا علم رکھنے کے باوجود محض جھوٹ سے کام لیتے ہوئے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایسی تحریریں امت مسلمہ کے لٹریچر میں کثرت سے موجود ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے۔اور آنے والے موعود کو اپنے آقا و مولی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور بروز قرار دیا گیا ہے۔(۱) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی جنہیں لدھیانوی صاحب بارھویں صدی ہجری کا مجدد قرار دیتے ہیں فرماتے ہیں۔" اعظم الانبياء شانا من له نوع اخر من البعث ايضا و ذلك ان يكون مراد الله تعالى فيدان يكون سببالخروج الناس من الظلمات الى النور وان يكون قومه خير امة اخرجت للناس فيكون بعثه يتناول بعثا اخر حجتہ اللہ البالغہ جلد اول باب حقیقته النبوة و خواصها صفحه ۸۳ مطبوعہ مصر ۵۱۲۸۴ ) یعنی شان میں سب سے بڑا نبی وہ ہے جس کی ایک دوسری قسم کی بعثت بھی ہوگی اور وہ اس طرح ہے کہ مراد اللہ تعالیٰ کی دوسری بعثت میں یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو اور اس کی قوم خیر امت ہو جو تمام لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو لہذا اس نبی کی پہلی بعثت دوسری بعثت کو بھی لئے ہوئے ہوگی " اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بروز حقیقی کی اقسام بیان کرتے