راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 173 of 198

راہ ھدیٰ — Page 173

عقیدہ نمبر ۴ ۱۷۳ اس عنوان کے تحت بھی لدھیانوی صاحب نے وہی اعتراض دہرایا ہے جو عقیدہ نمبر ۳ کے نیچے دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عبارت دی ہے۔" خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک مدعی نبوت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے درمیان کوئی پردہ مغایرت باقی ہے اس وقت تک کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبیین پر ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں گم ہو کر باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اس کا نام پا گیا ہو ، اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا ، کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر ، پس باوجود اس شخص کے دعوئے نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی وہ سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ "محمد ثانی " اسی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تصویر اور اس کا نام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے ، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں ، اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بار بار بتلا چکا ہوں کہ ہمو جب آیت و آخرين منهم لما يلحقوا بهم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا " (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ) قارئین کرام ! احمدی جانتے ہیں اور ہر احمدی اس عبارت سے خوب واقف ہے لیکن حیرت ہے کہ اس واضح عبارت کا بھی صحیح مطلب مولوی صاحب نہیں سمجھ سکے اس کے مفہوم کی کنجی لفظ " مغائرت " اور "آئینہ" میں ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین اور فرمودات سے سرمو بھی باہر قدم رکھنے والا ہو خواہ عقائد کی رو سے یا اعمال کی رو سے تو اس کے متعلق کہا جائے گا کہ خواہ ادنی ہی سہی اس