راہ ھدیٰ — Page 174
میں کچھ مغائرت ہے۔اسی طرح وہ شخص جو اپنے نفس کو پیش کرنے کی بجائے دنیا کے سامنے صرف آنحضر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیم کو منعکس کرے اور آپ کی ذات مطہر اور پاک چہرے کو پیش کرے۔ایسا شخص اس بچے آئینہ کی طرح ہے جو سورج کا چہرہ سب دنیا کو دکھاتا ہے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ آئینہ سورج کا ہمسر ہے یا وہی سورج ہے اگر چہ اس میں بعینہ سورج دکھائی دیتا ہو یہ اعلیٰ درجہ کا فصیح و بلیغ اور سلیس کلام جس کی نظیر دنیا کے ہر کلام اور ہر شعر و ادب میں پائی جاتی ہے۔اگر آپ کی سمجھ میں نہیں داخل ہو رہا تو ہم اس کا کیا علاج کر سکتے ہیں ایک دفعہ پھر آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ کیا لکھا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے خود آئینہ ہونے کا دعوئی کیا ہے جو محمد رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ دکھانے والا ہے۔یہ ایسی ہی بات جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نما کہا جاتا ہے کون بد بخت ہے جو اس پر یہ اعتراض کرے کہ اگر وہ خدا نما تھے اور ان کا اٹھنا بیٹھنا اور حرکت و سکون اور ہر قول خدا ہی کے قول اور اس کی شان کا مظہر تھا تو پھر بتاؤ کہ وہ خدا کی کون کونسی صفات میں شریک تھے۔انہوں نے کون کونسی دنیا بنائی کیون سی مخلوق تخلیق کی یا خدا کی طرح شادی نہیں ہوئی اور بچے نہیں ہوئے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا نما کہنے کے جرم میں کوئی آنجناب کی عدالت میں پیش ہو تو فرمائیے کہ آپ اس پر کیا کیا سوال کریں گے۔عقید نمبر ۵ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں کہ " مرزا صاحب کے بروز محمد ہونے کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات بروزی طور پر نعوذ بالله مرزا تمام احمد قادیانی سے منسوب میں کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی میں اس سے گندی گالی ہو سکتی ہے اور کوئی مسلمان جس کے دل میں ذرا بھی شن و حیاء ہو وہ اس بدترین حملہ کو برداشت کر سکتا ہے۔" جناب مواوی صاحب کی ہ یا مائیں نیشنہ بات ہے کہ جا تا ہے کہ اس مخلص کے دل