راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 172 of 198

راہ ھدیٰ — Page 172

۱۷۲ اور فرمایا : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى (انفال آیت نمبر ۱۸) ترجمہ۔اور جب تو نے پتھر پھینکے تھے تو تو نے نہیں پھینکے تھے بلکہ اللہ نے پھینکے تھے۔اگر کوئی کہے کہ اس کے استعاراتی اور بروزی معنی ہیں تو کیا کسی کو یہ اختیار ہو گا کہ یہی سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اٹھانے شروع کر دے کہ آپ بعینہ خدا بن گئے ہیں۔یہ مولوی صاحب اس کوچے سے آشنا ہی نہیں انہیں پتہ ہی نہیں کہ فصیح و بلیغ محاورے کیا ہوتے ہیں۔بائبل میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آنے کو بعینہ خدا کا آنا قرار دیا گیا ہے مولوی صاحب نے تو قرآن کا مطالعہ نہیں کیا۔بائبل کے متعلق کیا جانتے ہوں گے۔یاد رکھیں کہ بائبل کتنی ہی محترف و مبدل کیوں نہ ہو چکی ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارہ میں پیش گوئیاں بہر حال محرف و مبدل نہیں۔کیونکہ قرآن کریم نے ان کا حوالہ دے کر ان کی تصدیق کی ہے۔اس میں پاکستان والی مثال میں حضرت عیسی کی آمد کو خدا کے بیٹے کے طور پر اور حضرت محمد رسول اللہ کی پیشگوئی کرتے ہوئے آپ کی آمد کو خود خدا کا آنا قرار دیا ہے (لوقا باب ۲۰ آیت ۹ تا ۱۸) پس مولوی صاحب روشنی ڈال کر دکھائیں کہ خدا کا آنا کن معنوں میں تھا۔در حقیقت ایک بے ادب انسان معرفت سے کلیتہ عاری ہوتا ہے اور کھوکھلے برتن کی طرح بجتا رہتا ہے۔یہی حال ان مولوی صاحب کا ہے۔ایک لفظ کو پکڑ کر بیہودہ اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔کوئی بد بخت انسان ہو گا جو بائیبل کی یہ آیات پڑھ کر آنحضرت پر اعتراض شروع کر دے جس طرح اس مولوی صاحب نے کیا ہے۔