راہ ھدیٰ — Page 152
۱۵۲ خوب صراحت کے ساتھ یہ تحریر فرما چکے ہیں کہ ساری کائنات کے پیدا کرنے پر خدا تعالیٰ کے ارادے کا منتہیٰ اور آخری مراد حضرت محمد مصطفیٰ ہیں۔پس یہاں " مراد " سے وہ مراد ہرگز نہیں بلکہ ہر شخص جس منصب پر مقرر ہوتا ہے اس کے مطابق خدا تعالی کی الگ الگ مراد ہوتی ہے۔ہر چیز اس کے ارادہ سے پیدا ہوتی ہے اور ہر ارادہ جب پورا ہو تو مراد بن جاتی ہے۔پس زمانہ آخرین میں امام مہدی سے متعلق جب اللہ تعالی یہ فرمائے تو اس کا اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں ہو سکتا کہ اس زمانہ میں اسے پیدا کرنا مقصود تھا۔یہاں حضرت مرزا صاحب کی ذات نہیں بلکہ منصب مہدویت اور منصب مسیحیت ہی ہے۔کیونکہ یہی مضمون آپ کا حسب ذیل شعر خوب کھول رہا ہے۔۔وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا پس قطعاً ثابت ہوا کہ جناب لدھیانوی صاحب جو وسوسہ پیدا کر رہے ہیں کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب کی ذات کے بارہ میں یہ کہا گیا ہے بے بنیاد اور جھوٹ ہے جسے حضرت مرزا صاحب کی کھلی کھلی تحریر میں رہ کرتی ہیں۔اعتراض نمبر ۳ انت متى و انا منك ( تذکرہ صفحہ ۴۲۶ ) تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔جواب : - یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو محبت و پیار کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے چنانچہ ذیل کی احادیث ملاحظہ فرمائیں۔---- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو فرمایا " انت منی و انا منک" (بخاری کتاب الصلح باب کیف مکتب هذا) کہ اے علی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔اشعری قبیلہ کے بارے میں فرمایا " هُمُ مِنى و انا منهم" (تجريد البخاری باب الشركه اول صفحه ۴۷۴ مرتبہ فیروز الدین اینڈ سنز مطبوعہ کو اپر بیڈ سٹیم پریس لاہور ۵۱۳۴۱ ) کہ وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے - - - حضرت سلمان فارسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمانُ مِنا أهل البيت (مستدرک حاکم جلد نمبر ۳ کتاب معرفته الصحابة باب ذکر سلمان الفارسی رضی اللہ )