راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 151 of 198

راہ ھدیٰ — Page 151

۱۵۱ اکٹھے کر دیتے ہیں۔کوئی سیدھی سادی سوچ کا آدمی ہوتا تو 19 سے قطع نظر جتنے اعتراضات ذہن میں آتے نمبر شمار کر کے لکھتا چلا جاتا۔ان کی یہ طرز بتاتی ہے کہ یہ قرآنی آیات کو بھی بازیچہ اطفال سمجھتے ہیں۔تاکہ جس طرح چاہیں ان کا زبردستی اطلاق کر کے دکھائیں اور اپنی بددیانتی اور ذہنی کجروی پر مہر تصدیق ثبت کریں۔آئیے اب ہم ان دس اعتراضات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو نمبر 19 کے تابع دس الہامات پر انہوں نے کئے ہیں۔- اعتراض نمبر ---- "انت اسمى الا على ( تذکرہ صفحہ ۳۳۸) تو میرا الا علیٰ نام ہے " جواب : اسم کے معانی نام اور صفت کے ہوتے ہیں اور مرزا صاحب انسان ہیں۔انسان کو مٹی اور موصوف تو کہا جا سکتا ہے۔اسم اور صفت نہیں کہا جا سکتا۔پس اس الہام میں کوئی لفظ بطور مضاف محذوف ماننا پڑے گا جیسا کہ عربی زبان میں مضاف اکثر حذف ہو جاتا ہے۔پس یہاں پر انت اور امی کے درمیان مظہر کا لفظ بطور مضاف محذوف ہے۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے خود اس الہام کا یہ ترجمہ کیا ہے۔تو میرے اسم اعلیٰ کا مظہر ہے یعنی ہمیشہ تجھ کو غلبہ ہو گا " تریاق القلوب صفحه ۸۱ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۵ صفحه ۳۱۵) اس الہام میں بعینہ قرآن مجید کی اس آیت کا مضمون بیان کر دیا گیا ہے كتب الله لا تخلين اَنَا وَ رُسُلِي (المجادلہ : ۳۶) کہ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی غالب رہیں گے۔گویا ہر رسول خدا کے اسم اعلیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔پس دیکھ لیجئے حضرت مرزا صاحب کا اپنا کیا ہوا ترجمہ قارئین سے چھپانا کس درجے کی بے ادبی ہے اور اپنا بنایا ہوا ترجمہ مرزا صاحب کی طرف منسوب کرنا کیسی بددیانتی ہے" اعتراض نمبر ۲ - أنتَ مُرادی ( تذكرة صفحه ۸۳ ) تو میری مراد ہے اس الہام میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اس الہام کے متعلق مولوی صاحب کے دماغ میں غالبا یہ فتنہ داخل ہوا ہے کہ گویا مبینہ طور پر اللہ تعالی اپنی تمناؤں کا منتہی مرزا صاحب کو قرار دے رہا ہے۔یہ ہرگز نہ مرزا صاحب کا عقیدہ تھا نہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے بلکہ حضرت مرزا صاحب تو بارہا