راہ ھدیٰ — Page 115
۱۵ یہ عبارت خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد ۱۶ کے صفحہ ۲۶۶ پر ہے خطبہ الہامیہ کی اصل عبارت عربی میں ہے اس کے نیچے فارسی اور اردو ترجمہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔لدھیانوی صاحب نے اس کا اردو ترجمہ درج کیا ہے اور ترجمہ درج کرتے ہوئے انہوں نے اپنی طرف سے عبارت کے اندر دو بر یکٹیں ڈال دی ہیں جو نہ اصل عربی عبارت میں ہیں اور نہ اردو ترجمہ میں۔ان کی بریکٹیں بتا رہی ہیں کہ بہتان سے کام لینے کے لئے حضرت مرزا صاحب کی تحریروں میں تصرف سے کام لیا ہے تاکہ مکہ کے مقابل پر نعوذ باللہ قادیان کو رکھ کر اشتعال انگیزی کریں یہاں نہ مکہ کا ذکر ہے نہ قادیان کا صرف آنحضور کی روحانیت کے آغاز اور اس کے دن بدن روشن تر ہونے کا ذکر ہے جو آخری زمانہ میں پہلے سے بڑھ کر دنیا میں جلوہ گر ہو رہی ہے اور شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمیشہ بڑھتے رہنے کے عقیدہ کی سند قرآن کریم میں ہے ایک تو جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِ المُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّم کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اللہ تعالیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سب دوسرے دینوں پر غالب کر دے گا اور سب دوسرے دینوں پر غالب آنے سے جو روحانیت ظاہر ہو گی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہی ہوگی نہ کہ کسی دوسرے کی۔دوسرے سورۃ الضحی میں فرمایا - وَلَلآخِرَةُ خَيْرُ الكَ مِنَ الأُولیٰ کہ " تیرا آخر تیرے اول سے بہتر ہو گا " یہ پیشگوئی اس پر شاہد ناطق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان آئندہ بڑھے گی۔اور جو غلامان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، شان بڑھانے میں مدد کریں گے یہ ان کی نہیں بلکہ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہو گی۔قرونِ اولیٰ میں صحابہ نے قربانیاں دیں وہ بھی دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تھی جو صحابہ میں جلوہ گر تھی پس یہی معنے ہیں حضرت مرزا صاحب کی مذکورہ بالا عبارت کے اس میں نہ مکہ اور قادیان کا ذکر ہے اور نہ قادیان کی مکہ پر فضیلت کا دعویٰ کیا گیا ہے ہمارے نزدیک ایسا خیال شیطانی ہے جس سے ہرگز ہمارا کوئی تعلق نہیں۔یہی بات بعینہ خطبہ الہامیہ میں زیر نظر عبارت کی تیسری سطر میں خوب کھول کر پیش کر دی